قصور(خصوصی رپورٹ) پولیس تھانہ مصطفی آباد نے مبینہ قابلِ اعتراض حالت میں گرفتار کرنے والے 55مردوخواتین کو عدالت سے ڈسچارج کردیا تھا۔ پولیس نے اپنے طریقہ کار کو درست کرنے، تفتیش کے نظام میں بہتری لانے کی بجائے اپنی ساکھ بحال کرنے کیلئے اْن کی ویڈیو وائرل کرنے کے جرم میں تفتیشی آفیسر اور محرر تھانہ کو معطل کرکے کلوز لائن کردیا۔ بااثر لوگوں کی ویڈیو وائرل ہونے کو پولیس نے انسانیت کی تذلیل قرار دیاجبکہ اس سے قبل پولیس اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کے لیے ملزموں کی ویڈیو ہمیشہ وائرل کرتی ہے۔ تفصیل کے مطابق چار روز قبل پولیس تھانہ مصطفی آباد نے ایک نجی فارم ہا ئوس میں چھاپہ مارکر 30 نوجوان اور 25 خواتین کے خلاف قابل اعتراض حالت میں پکڑے جانے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا تھا۔ جن کو عدالت نے مقدمہ سے ڈسچارج کردیا۔ پولیس نے اپنی ناقص تفتیش یا پریشر کی وجہ سے ملزمان کے خلاف جو چالان پیش کیا یقینا اس میں کسی کوتاہی کی بناء پر عدالت نے انہیں ڈسچارج کیا ہے۔ پولیس نے اپنی تفتیش کو قانون کے مطابق اور بغیر پریشر کرنے کا عزم کرنے کی بجائے عوام میں اپنی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے مبینہ طورپر ان بااثر لوگوں کی ویڈیو وائرل کرنے کے الزام میں تفتیش آفیسر محمدصادق اور محرر تھانہ شبیرحسین کو معطل کردیا۔ ایسے بااثر لوگوں کی ویڈیو وائرل ہونے کے عمل کو پولیس نے انسانیت کے خلاف قرار دیا جبکہ اس سے قبل پولیس خود ملزمان کی ویڈیو وائرل کرتی ہے