لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی، ملٹری کورٹ کی تمام کارروائی اور کورٹ مارشل کے خلاف درخواست پر سماعت سے معذرت کرلی۔
عدالت نے فائل واپس چیف جسٹس کو بھیجتے ہوئے درخواست کو کسی دوسرے بینچ میں لگانے کی سفارش کی ہے۔درخواست گزار کے وکیل فیصل چوہدری پیش ہوئے۔ جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حسان نیازی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ 9 مئی کے کیس میں گرفتاری کے بعد حسان نیازی کو سویلین عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، بلکہ پولیس نے اس کی کسٹڈی ملٹری کو دے دی۔ غیر قانونی طور پر اسے عدالتی حکم کے بغیر ملٹری کے حوالے کیا گیا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ اس کی ملٹری کسٹڈی میں لینے کا کمانڈنگ آفیسر کا 17 اگست 2023 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، اور اس کی ملٹری کسٹڈی، ملٹری کورٹ کی کارروائی اور کورٹ مارشل کی تمام کارروائی کو بھی غیر معتبر قرار دیا جائے۔ علاوہ ازیں، درخواست گزار نے استدعا کی کہ لاہور ہائی کورٹ اسے جیل سے رہا کرے یا پھر انسداد دہشتگردی عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے۔