سینیٹ ‘قومی اسمبلی نیب ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور‘اپوزیشن کا احتجاج

 آئینی عدالت اور ہائی کورٹ کو ملزم کی ضمانت کا واضح اختیار دیا جائے گا ‘فوجداری ضابطہ کی متعلقہ دفعات کے تحت ضمانت یا رہائی کا اختیار ہو گا 
 نیب کیسز میں ہائیکورٹ کے فیصلوں کیخلاف دوسری اپیل کی اجازت ہوگی ‘ فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل دائر ہوسکے گی
چیئرمین نیب کی تین سالہ مدت ایک بار مزید تین سال بڑھائی جا سکے گی:بل کا متن‘اپوزیشن نے احتجاج کے دوران بل کی کاپیاں پھاڑ دیں
اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں نیب ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا،نیب کیسز کے خلاف آئینی عدالت میں اپیل دائر کی جاسکے گی، حکومت چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں تین سال تک توسیع دے سکے گی،بل کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن کا شدید احتجاج،بل کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اڑا دی۔جمعرات کو سینیٹ اجلاس کے موقع پر بلوچستان عوام پارٹی کے سینیٹر عبدالقادر نے نیب آرڈیننس ترمیمی بل 2026 پیش کیا جس پر وفاقی وزیر قانون نے کہاکہ نیب قانون میں جو ترامیم مانگی گئی ہیں وہ بہت اچھی ہیں اور حکومت اس کی حمایت کرتی ہے اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے بل پر اراکین سے شق وار رائے لینے کے بعد کثرت رائے کی بنیاد پر منظور کر لیا۔ بل کی منظوری کے موقع پراپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور بل کی کاپیاں ہوا میں اچھالی گئیں اس موقع پر اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے مابین زبانی جملوں کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔بل کے متن کے مطابق نیب آرڈیننس میں ترمیم کا مقصداحتساب قوانین میں مزید وضاحت اور طریقہ کار بہتر بنانا ہے ترامیم کے مطابق چیئرمین کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھانے کی تجویز بل کا حصہ  ہے اس طرح وفاقی حکومت کو چیئرمین نیب کی مدت میں مزید تین سال توسیع کا اختیار مل گیا ہے اسی طرح احتساب عدالتوں کے دائرہ اختیار میں اپیلوں کو شامل کرنے کی تجاویز بل کا حصہ  بنائی گئی ہیں متن کے مطابق نیب مقدمات میں مالی حد ہر سال مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ کی جا سکی گی،متن  کے مطابق پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے انفلیشن انڈیکس کے مطابق مالی حد مقرر ہو سکے گیا بل کے متن کے مطابق آئینی عدالت اور ہائی کورٹ کو ملزم کی ضمانت کا واضح اختیار دیا جائے گا اورفوجداری ضابطہ کی متعلقہ دفعات کے تحت ضمانت یا رہائی کا اختیار ہو گا بل کے متن کے مطابق نیب کیسز میں ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف دوسری اپیل کی اجازت ہوگی اور ہائی کورٹ فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل دائر ہوسکے گی،متن کے مطابق وسری اپیل دائر کرنے کیلئے تیس دن کی مدت مقرر کیا جا سکے گا۔قومی اسمبلی نے بھی  نیب آرڈیننس میں مذید ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا،اپوزیشن کی جانب سے بل کی   شدید مخالفت،جے یوآئی کی ترامیم بل میں شامل نہیں کی گئی