قومی اسمبلی ‘سینیٹ میں دفاعی افواج ایکٹ اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل منظور اپوزیشن کا بائیکاٹ

نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی ایکٹ  کا اطلاق 27 نومبر 2025 سے ہوگا،چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے، دفاعی کمانڈ کے ڈھانچے، تینوں مسلح افواج کے درمیان رابطہ کاری اور مشترکہ آپریشنل صلاحیت بہتر بنانے سے متعلق  قانونی شقیں شامل
چیف آف ڈیفنس فورسز ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کے امور کی نگرانی کریں گے اور مسلح افواج سے متعلق اہم معاملات میں وزیراعظم کو مشورہ دینے کی ذمہ داری بھی ادا کریں گے‘ ،دونوں بل وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے ایوان میں پیش کئے گئے 
اسلام آباد ( آن لائن ) ِقومی اسمبلی نے کثرت رائے سے ڈیفنس فورسز ایکٹ ترمیمی بل اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ ترمیمی بل 2026ء کی منظوری دے دی، اپوزیشن نے بلز کی منظوری کے دوران احتجاجاً واک آئوٹ کیا اور بلز کی مخالفت کی ،دونوں بلز وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے ایوان میں پیش کئے گئے جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے دونوں بلز کے اغراض و مقاصد بیان کئے اور کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا ادارہ قائم ہونے کے بعد ہم  آہنگی اور بعض انتظامی امور کے حوالے سے یہ قانون سازی ناگزیر تھی اور اس کے علاوہ اس کے کوئی مقاصد نہیں ہیں ۔ پاکستان ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کے مجوزہ مسودے میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے، دفاعی کمانڈ کے ڈھانچے، تینوں مسلح افواج کے درمیان رابطہ کاری اور مشترکہ آپریشنل صلاحیت بہتر بنانے سے متعلق متعدد نئی قانونی شقیں شامل کی گئی ہیں۔ مجوزہ قانون آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت دفاعی کمانڈ کے ڈھانچے کو قانونی بنیاد فراہم کرے گا۔مسودے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت **چیف آف ڈیفنس فورسز** کا عہدہ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف اور دیگر سروس چیفس سے متعلق امور کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔مجوزہ قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی تنظیم، تشکیل، جنگی تیاری اور تینوں سروسز کے درمیان مشترکہ آپریشنل صلاحیت بہتر بنانے کے لیے ضروری احکامات جاری کرنے کا اختیار دینے کی تجویز ہے۔چیف آف ڈیفنس فورسز کا بنیادی کردار مسلح افواج کے درمیان رابطہ کاری، مشترکہ امور اور مشترکہ آپریشنز کو مؤثر بنانے کے حوالے سے متعین کیا گیا ہے۔بل کے مسودے میں ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرزکے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ ہیڈکوارٹرز مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے طور پر کام کرے گا، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز اس کے سربراہ ہوں گے۔مجوزہ قانون کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کے امور کی نگرانی کریں گے اور مسلح افواج سے متعلق اہم معاملات میں وزیراعظم کو مشورہ دینے کی ذمہ داری بھی ادا کریں گے۔مسودے میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج سے متعلق معاملات میں وزیراعظم کے سامنے ذمہ دار بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ انہیں مسلح افواج کے اعلیٰ افسران سے متعلق بعض اختیارات دینے کی تجویز بھی شامل ہے، تاہم بعض معاملات میں وزیراعظم کی منظوری لازمی ہوگی۔اس طرح مجوزہ قانون میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کی آئینی و انتظامی نگرانی کے دائرہ کار کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔