پاکستان ہمشہ زندہ باد پاک فوج پائندہ باد

 اللہ دت
25 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر میں واقعہ پہلگام رونما ہوتا ہے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی اس واقعہ کی مذمّت کرتا ہے۔مگر بھارت پاکستان کے مذمتی بیان کو کمزوری سمجھ کر پہلگام واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کو گردانتا ہے اور ساتھ ہی پاکستان پر حملے کا اندیہ دیتا ہے۔اور  معاہدہ سندھ طاس سے انحراف کا اعلان بھی کرتا ہے۔اس کے جواب میں پاکستان بھارتی اس دھمکی کو اپنی سر زمین پر حملہ قرار دیتا ہے۔ایسے سنگین حالات کے پیش نظر پاکستان پھر بھی بھارت کو پہلگام واقعہ کی عالمی سطح پر انکوائری کروانے کا مشورہ دیتا ہے اور حقائق دنیا کے سامنے رکھتا ہے مگر بھارت میں جنگی جنون عروج پر پہنچ جاتا ہے اور پہلگام واقعہ کو بنیاد بنا کربھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنا مادی مفاد مد نظر رکھتے ہوئے اپنا جنگی جنون اتارنے کے لئے 6اور7 مئی کی درمیانی شب کو اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کی سالمیت پر حملہ آور ہوجاتا ہے اور پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنا کر معصوم شہریوں کو شہید کردیتا ہے۔اور اس آپریشن کو "آپریشن سندور" کا نام دیتا ہے۔ پاکستان عالمی امن کو مد نظر رکھتے ہوئے  معاملہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے  رکھتا ہے مگر دنیا کے دو نام نہاد چوہدری  اس بھارتی حملے کو پاکستان اور بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے کر حقائق سے روگردانی کرتے ہیں اور خاموش تماشائی بن جارے ہیں
           اس صورت حال کے تناظر میں پاکستان اپنا فیصلہ خود کرنے اور اپنی پاک سر زمین اور اپنی عوام کی حفاظت کے لئے بھارت کے "آپریشن سندور" کے جواب میں "آپریشن بْنیَانْ مّرصْوص" ترتیب دیتا ہے اور10 مئی 2025 کو نماز فجر کے بعد ہمارے پاک فضائیہ کے جوان اپنے لڑاکا طیاروں کے ساتھ ماضی کے تمام قرض سود سمیت چکانے کے پختہ عزم کے ساتھ بھارت پر بھوکے شیر کی طرح یلگار کرتے ہیں اور بھارت کا 25 اپریل 2025 تا 9 مئی 2025تک کا غرور اور گیدڑ بھبکیوں کا خاتمہ کرکے واپس اپنی دھرتی ماں پر سر بسجود ہوجاتے ہیں اور ڈاگ فائیٹ کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیتے ہیں۔بقول شاعر۔ ?
ہم چپ تھے کہ برباد نہ ہو جائے گلشن کا سکون
ناداں یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم میں قوت للکار نہیں۔
                                                   پاکستان کی بہادر اور تربیت یافتہ پاک فضائیہ نے بھارت کے تین رافیل سمیت پانچ طیارے مارگرا کر دشمن کو تِگنی کا ناچ نچایا اور صرف عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر عسکری قیادت کی سوچ کو متذلذل کر کے رکھ دیا اور بھارت جیسی جنگی جنون کی حامل حکومت اور عسکری قیادت کے چھکے چھڑا دئیے۔اور عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔ یاد رہے یہ شکست صرف بھارت کے حصے میں ہی نہیں آئی بلکہ اس کے حامی امریکہ،فرانس، روس اور امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل بھی اس شکست سے ہم کنار ہوئے۔
          اس کاروائی کے فوراً بعد پاکستان میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں جوہری ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی منظوری دی گئی۔کیونکہ مسلمان جنگ سے ڈرتا نہیں۔ادھر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی منظوری ہوئی ادھر نام نہاد چوہدری جنگ بندی  کی ثالثی لے کر میدان میں آگیا یوں پھر سیز فائر ہوا۔
ہماری تینوں افواج کے چِیفس اور جوانوں کے حوصلے بلند تھے مگر جو جزبہ ہمارے سپہ سالار حافظ عاصم منیر صاحب کا تھا اسے دنیا نے دیکھا اور سراہا اس کے ساتھ ہمارے پاک فضائیہ کے چیف اور پاک نیوی کے چیف واقعی بنیان مرصوص (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) تھے۔اورہمارے DGISPR کا حوصلہ، عزم، جزبہ اور قوت ایمانی دیدنی تھی وہ جب سکرین پر نمودار ہوتے تھے تو ان کو دیکھ کر ہی طبیعت ہشاش بشاش ہو جاتی تھی جب وہ کلام کرتے تو ان کی گفتگو میں بھارت کے لئے یلگار تھی پاکستانی عوام کی رگوں میں خون جوش مارنے لگتا تھا۔اس مرد مجاہد نے جو کہا کرکے دکھایا۔پنجابی کے اس محاورے(گلّاں کرنیاں سوکھیاں مرداں اوکھے پالنے بول) کو عملی جامہ پہنایا۔انہوں کہا تھا کہ جب ہم حملہ کریں گے تو ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ دنیا دیکھے گی، دکھائے گی اور مانے گی۔پھر ایسا ہی ہوا اور چند گھنٹوں میں ہوا پھر دنیا نے دیکھا بھی مانا بھی اور دوسروں کو دکھایابھی۔ہمارے اس بہادر شیر جوان کے یہ الفاظ دنیا کی تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف میں لکھے ملیں گیاللہ پاکستان کا بلکہ عالم اسلام کا حامی و ناصر ہو۔آخر میں ہم اپنے اللہ بزرگ و برتر کا کروڑہا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں فتح و کامرانی سے نوازا۔اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے رفقاء￿  کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے اس مشکل اور کڑے وقت میں ہمارا ساتھ دیا۔وقت آنے پر پاکستان بھی اپنے دوستوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔آخر میں ہم ہمارے سپہ سالار حافظ عاصم منیر صاحب کا نعرہ دہراتے ہیں۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔پاک فوج پائندہ باد۔