فرخ ریاض بٹ
ایک سوچے سمجھے پلان کے تحت حکومت وقت کے خلاف کچھ نام نہاد سیاسی پارٹیاں اپنے منفی عزائم پورے نہ ہونے کی صورت میں عید کے بعد احتجاج جلسے جلوس نکال کر ملکی معیشت جو اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے جا رہیے ہے اسے کمزور کرنے کی ازحد کوشش کر رہے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مولانا فضل الرحمن جو ماضی میں جمہوریت ، اسلام کی سربلندی تعمیرات ترقی کے دعوے دار بنے اور ہر جگہ PTI کی ناکام حکومت کے خلاف سخت نفرت کا اظہار کیا اور اب اچانک نہ جانے کس بنا پر حکومت وقت کے خلاف جہاد کرنے نکل پڑے ہیں۔ اگر مولانا فضل الرحمن کو پاکستان کا احساس ہے تو یہ افغانستان جائیں اور جو تنظیمیں کہ جن پر پابندی عائد ہے یہ لوگ پاکستان کے خلاف ایک سوچے سمجھے پلان کے تحت دہشت گردی کروا رہے ہیں انہیں جا کر روکیں ان سے بات چیت کریں انہیں دہشت گردی سے روکیں مگر کہاں شاید اب مولانا فضل الرحمن خود وزیراعظم پاکستان یا صدر پاکستان کا عہدہ چاہتے ہیں؟ میں نے تو مشورہ دیا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کو KPK کا وزیراعلیٰ بنوا دیں تو سب ٹھیک ہے ملک کا احساس کس کو ہے سب اقتدار کی کرسی کی جنگ میں مصروف ہیں ابھی سے اعلانات کروائے جا رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن اب سڑکوں پر آرہے ہیں؟ اب اگر کوئی یہ کہہ دے کہ JUIF کو گرین سگنل ملا ہے معاف کرنا اب نہ تو کوئی گرین سگنل ملا ہے نہ ہی سرخ جھنڈی ملی ہے یہ سب جو صاحب اڈیالہ میں ہیں VVIP مہمانِ خصوصی ہیں انہی کے اشاروں کناروں پہ سب ملک دُشمن پاک مسلح افواج دشمن اشارے دیئے جا رہے ہیں۔
یہ بات بھی افسوسناک ہے کہ جب میں پاکستان کو اچھی بے نظیر قیادت ملتی ہے اور معیشت مضبوط ہونے لگتی ہے تو اچانک ایسے نام نہاد لوگ منظر عام پر آنے لگتے ہیں جو اکثر اوقات کئی بار اپنی ہی بولیاں لگواتے نظر آتے ہیں اب پاک مسلح افواج کو آج ہی سوچنا ہے کہ ایسی کوئی شیطانی قوت کو قطعی کامیاب نہیں ہونے دیں گے کہ جو جمہوریت انسانی حقوق کی پامالی کے نام پر پھر سے سر اُٹھانے لگے ہیں اس سے پہلے کہ یہ سروں کو اُٹھائیں ان کے سروں کو اور ان کے دہشت گرد حواریوں کو سہولت کاروں کو انہیں پناہ دینے والوں کو کچل دیا جائے۔ اب اچانک پھر سے دہشت گرد جو سر اُٹھا رہے ہیں افغانستان سے حملے کروا رہے ہیں افغانستان سے بدنام زمانہ دہشت گرد بھیج رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر غلط جھوٹ پراپیگنڈے کروا رہے ہیں پاک مسلح افواج پر کیچڑ اُچھال رہے ہیں مجھے یاد ہے لاہور میں لیڈ ر آف اپوزیشن مسٹر Butcher نے کہا تھا اگر ہم یعنی PTIعمران نیازی جو بانی کے نام سے مشہور ہو چکے ہیں انہیں رہا نہ کیا گیا اور ہماری حکومت نہ بنوائی گئی تو پھر سب سن لیں پاکستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اندھیرے چھا جائیں گے ملک تباہ وبرباد ہو جائے گا۔ اللہ محمد آلِ محمد ﷺ کے صدقے پیر و مرشد حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری ؒ کے صدقے ہمارا ہم سب کا پیارا پاکستان صدا شاد و آباد رہے (آمین ثم آمین)اور جو خیالات بانی اور اس کے شیطانی حواریوں کے ہیں کہ جو سوشل میڈیا پر غلیظ غلط منفی پراپیگنڈے میں مصروف ہیں اللہ ان کو غارت کرے ( آمین )۔
جعفر ایکسپریس ٹرین کو یرغمال بنا کر روزے داروں کو تنگ کرنے والے مسلمان اور مجاہدین نہیں بلکہ دہشت گرد ہیں۔ یہ لوگ بھارت کی خفیہ ایجنسی (را)سے فنڈز لیکر پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں ۔ بہرحال اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اب بہت ہو چکا عام زبان میں علم تھا شک تھا کہ دہشت گرد جو متحرک ہیں کچھ بھی کر سکتے ہیں سبی ہرنائی کوئٹہ چمن ریلوے ٹریکس پر چند افراد جو پہرے دار تھے یہ نہ کافی تھے بلکہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سبی، کوئٹہ چمن، ریلوے لائن کی سیکورٹی پاک فوج کے حوالے کی جائے ۔تاکہ عوام سکون کیساتھ سفر کر سکیں۔پاکستان ریلوے کے نظام میں پاک فوج کو امن تحفظ کے پیش نظر اختیارات دیں تاکہ مسلح افواج خفیہ ایجنسیاں پولیس رینجرز سب مل کر ان مٹھی بھر دہشت گردوں کا فوری خاتمہ کریں۔ اب جیکب آباد سے سبی تک سبی سے کوئٹہ تک کوئٹہ سے چمن تک اور ہرنائی سیکشن پر ریل گاڑیوں کی آمد سے پہلے پاک فوج کے جوان سیکورٹی پر معمور کیے جائیں ۔میری آرمی چیف،وزیراعظم شہبازشریف، صدرپاکستان آصف علی زرداری سے درخوات ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں کو بڑی تعدار میں افواج پاکستان میں بھرتی کریں اور اعلیٰ فوجی تربیت دیں تاکہ آئندہ پاکستان کی نسلوں کوتحفظ دیا جاسکے اور مسلح افواج کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ پاکستان میں موجودہ دہشت گردی کے حوالے سے جو صورتحال درپیش ہے اس سلسلے میں سینئر صحافی سید سلیم بخاری صاحب کے تجزیے بے نظیر، بے مثال اہمیت کے حامل ہیں جس انداز میں سید سلیم بخاری دہشت گردی کے خلاف اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف تجزیے پیش کر رہے ہیں یہ قابل ستائش ہیں ۔