حافظ عبدالغفار روپڑی
کچھ جملے ضرب المثل بن جاتے ہیں۔ لوگ ان کو دوہراتے ، دوسروں کو سناتے ، ان سے نصیحت حاصل کرتے اور ان کی روشنی میں اصول وضوابط طے کرتے ہیں۔جیسا کہ سلطان ٹیپو شہید نے کہا تھا ’’ شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ سلطان ٹیپو کا یہ جملہ بھی قول بن گیا اور جرا?ت وبہادری کا استعارہ بن گیا۔ ایسے ہی فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر نے ایک تقریر کے دوران کہا تھا ’’ پاکستان ہمیشہ زندہ باد ‘‘ ا?ج یہ جملہ حقیقت بن چکا ہے اور پوری دنیا میں گونج رہا ہے۔ دنیا کے فیصلے پاکستان میں ہورہے ہیں اور بڑے بڑے ممالک پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ’’پاکستان ہمیشہ زندہ باد‘‘ ایک عزم، ایک ولولہ اور ایک حقیقت بن چکا ہے۔ یہ اسلئے کہ پاکستان صرف ایک ملک ہی نہیں ایک نظریہ ہے اور ایک ایسی حقیقت ہے جو لاکھوں قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا ہے۔ جب فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کے لبوں سے یہ الفاظ نکلتے ہیں کہ "پاکستان ہمیشہ زندہ باد" تو یہ محض ایک نعرہ نہیں رہتا بلکہ یہ قوم کے دل کی دھڑکن بن جاتا ہے۔ یہ جملہ ہمارے ایمان، ہمارے عزم اور ہماری اجتماعی شناخت کی ترجمانی کرتا ہے۔یہ جملہ اس بات کا غماص ہے کہ پاکستان سلامت ہے تا قیامت ہے۔ یہ بات ہمیں اچھی طرح جان لینی اور سمجھ لینی چاہئے کہ یہ وطن ہمیں کسی اتفاق سے نہیں ملا بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل جدوجہداور لاکھوں شہدا کی قربانیاں ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک علیحدہ ریاست کے لیے جو جدوجہد کی وہ تاریخ کا ایک روشن اور تابناک باب ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے خون سے اس سرزمین کو سینچا، اپنے گھروں کو چھوڑا، اپنے عزیزوں کی قربانیاں دیں تب جا کر پاکستان معرض وجود میں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ "پاکستان ہمیشہ زندہ باد" کہنا دراصل ان شہدا اور غازیوں کی تمام قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔
یہ جملہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کا وجود محض جغرافیائی حدود تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اسلامی اور نظریاتی ریاست ہے جس کی بنیاد اسلام کے ذریں اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ یہاں عدل، مساوات، اخوت اور بھائی چارے کی وہ روشن شمع جلنی تھی جو پوری دنیا کے لیے مثال بنتی۔ اگر ہم اس نظریے یعنی اسلام سے جڑے رہیں تو کوئی طاقت ہمیں مٹا نہیں سکتی، کیونکہ نظریے کبھی نہیں مرتے، وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
آج جب ہم اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں مختلف چیلنجز کا سامنا نظر آتا ہے۔ افق پر جنگ کے منڈلاتے سائے ، معاشی مشکلات، سیاسی کشمکش، بیرونی دباؤ اور اندرونی انتشاریہ سب وہ عوامل ہیں جو کسی بھی قوم کو کمزور کر سکتے ہیں۔ مگر ایک زندہ قوم وہی ہوتی ہے جو ان مشکلات کے باوجود اپنے حوصلے کو بلند رکھے اور اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے۔ یہی پیغام اس جملے میں پوشیدہ ہے کہ "پاکستان ہمیشہ زندہ باد"یعنی حالات کیسے بھی ہوں ہمارا عزم متزلزل نہیں ہوسکتا اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ڈرا اور دھمکا نہیں سکتی۔
’’ پاکستان زندہ باد ‘‘ یہ نعرہ ہمارے جوانوں کے حوصلے کی علامت بھی ہے۔ سرحدوں پر کھڑے وہ سپاہی جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن کی حفاظت کرتے ہیں، ان کے دلوں میں یہی صدا گونجتی ہے۔ جب وہ برف پوش پہاڑوں میں، تپتے ریگستانوں میں ، گھنے جنگلات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے یا جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردوں کو واصل جہنم کرتے اور وطن کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتے ہیں تو ان کے لبوں پر یہی نعرہ ہوتا ہے۔ پاک فوج کے بہادر جوانوں کے لیے پاکستان صرف ایک ملک ہی نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے جس کی حفاظت ان کے ایمان کا حصہ ہے۔
’’ پاکستان ہمیشہ زندہ باد ‘‘ اس جملے میں ہماری نوجوان نسل کے لیے بھی ایک پیغام ہے ، نصیحت ہے ، سبق ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اگر ان کے دلوں میں اپنے وطن کی محبت جاگزیں ہو جائے تو وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں، ستاروں پر کمند ڈال سکتے ہیں ، سمندوں کو چیر سکتے ہیں اور پہاڑوں کو روند سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نئی نسل کو یہ احساس دلائیں کہ پاکستان ان کی پہچان ہے، ان کی عزت ہے اور ان کا مستقبل ہے۔ جب نوجوان یہ سمجھ جائیں گے تو وہ علم، تحقیق اور ترقی کے میدان میں وہ کارنامے سرانجام دیں گے جو دنیا کو حیران کر دیں گے۔
"پاکستان ہمیشہ زندہ باد" صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ یہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہمیں اپنے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ چاہے ہم طالب علم ہوں، اساتذہ، ڈاکٹرز، انجینئرز، کسان یا مزدورہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرے۔ جب ہر فرد اپنا کام دیانتداری سے کرے گا تو ملک خود بخود ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔
یہ جملہ ہمیں اتحاد کی اہمیت بھی سمجھاتا ہے کہ قوم اس وقت مضبوط اور سربلند ہوتی ہے جب وہ متحد اور متفق ہو۔قیام پاکستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ قیام پاکستان ایک مشکل ترین مرحلہ تھا ، راستے میں مخالفت کے طوفان اور پہاڑ کھڑے تھے۔ ایک برٹش ایمپائر تھی جس کی حدود میں سورج بھی غروب نہیں ہوتاتھا دوسری طرف ہندو تھے لیکن مسلمان کلمہ طیبہ والے پرچم تلے متحد ہوگئے تو انگریز اور ہندئووں کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ قیام پاکستان کے واقعہ میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ اگر ہم لسانی، علاقائی اور فرقہ وارانہ اختلافات میں الجھے رہیں گے تو ہم کبھی ترقی نہیں کر سکتے اور ہمارا ملک سیاسی اور معاشی طور کبھی مضبوط نہیں ہوسکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ جب ہم ایک قوم بن کر آگے بڑھیں گے تو کوئی طاقت ہمیں روک نہیں سکے گی۔
’’ پاکستان زندہ باد ‘‘ کا نعرہ امید کی کرن بھی ہے۔ جب حالات مایوس کن ہوں، جب مشکلات بڑھ جائیں، جب راستے بند نظر آئیںتب یہی جملہ ہمیں حوصلہ دیتا ہے کہ پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔ یہ ایمان افروز نعرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں مشکلات سے گھبرا کر نہیں بلکہ ان کا مقابلہ کر کے زندہ رہتی ہیں۔ ہمیں بھی اپنے مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا اور مایوسی کو اپنے قریب نہیں آنے دینا ہوگا۔
ادب اور خطابت کی دنیا میں ایسے جملے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جو دلوں کو چھو جائیں اور روح کو بیدار کر دیں۔ "پاکستان ہمیشہ زندہ باد" بھی ایسا ہی ایک جملہ ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں ایک نئی روشنی جگاتا ہے۔ یہ ہمیں اپنی پہچان کا احساس دلاتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک عظیم قوم کے فرد ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ اگر ہم اپنے کردار کو بہتر بنائیں، اپنے فرائض کو دیانتداری سے ادا کریں اور اپنے وطن سے سچی محبت کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان دنیا کی عظیم ترین قوموں میں شامل نہ ہو۔ ہمیں اس نعرے کو صرف زبان تک محدود نہیں رکھنا بلکہ اسے اپنے عمل کا حصہ بنانا ہوگا۔ آئیے۔۔۔۔! عہد کریں کہ ہم اپنے وطن کی عزت، سالمیت اور ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ہم اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مضبوط اور متحد قوم بنیں گے۔ ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
کیونکہ یہ صرف ایک نعرہ نہیں
یہ ہمارا ایمان ہے، ہماری پہچان ہے اور ہماری زندگی ہے
پاکستان ہمیشہ زندہ باد!