فرخ ریاض بٹ
سانحہ نائن الیون کے بعد امریکا کی دہشت گردی کے خلاف شروع کردہ جنگ اور افغانستان پر حملہ آور ہونے کے بعدسے وطن عزیز پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے۔بے گناہ انسانوں کو انتہائی بے دردی کے ساتھ بم دھماکوں، خودکش حملوں، فائرنگ اور دیگر واقعات میں زندگی سے محروم کیا جارہا۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کیلئے پہلے آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا۔ ملک بھر میں دہشت گردوں کو چْن چْن کر مارا اور گرفتار کیا گیا۔ ان کے ٹھکانوں کو تباہ و برباد کیا گیا۔ دہشت گردوں کی کمر توڑ کے رکھ دی گئی۔ پھر ردْالفساد شروع کیا گیا، یہ بھی انتہائی کامیابی سے مکمل کیا گیا اور اس کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر بحال ہوگئی۔ دہشت گردوں کا صفایا کردیا گیا۔لیکن جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی تو عمران خان نے جیلوں میں قید تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کے دہشت گروں کو رہا کادیا اور افغانستان کے باڈر ایئریاز میں موجود ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو پاک سر زمین پر سرگرمیاں کرنے کی اجازت دی جس کے بعد پاکستان ایک مرتبہ پھر سے دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا ہے اور جب افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ہوا ہے تو دہشت گردوں نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ پچھلے تین سال سے مسلسل دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں جنہیں ہماری بہادر سیکیورٹی فورسزنے بڑی جانفشانی سے ناکام بنایا۔
دوسری جانب دیکھا جائے تو بلوچستان پس ماندہ صوبہ ہے، جہاں کی محرومی کا فائدہ اْٹھاتے ہوئے دشمن ملک کے زرخرید غلام معصوم ذہنوں میں زہر گھولنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اْنہیں پاکستان کے خلاف بغاوت پر اْکسانا اْن کا مقصد ہے۔ ان ذہنوں میں زہر گھول کر یہ انہیں اسلحہ اْٹھانے پر مجبور کرتے ہیں۔ پھر یہ لوگ بے گناہوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتے ہیں۔ یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ بھارت بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ اس کے ایجنٹ پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیاں کو انجام دیتے چلے آئے ہیں۔ کلبھوشن یادو بلوچستان میں عرصہ دراز تک دہشت گردی کو بڑھاوا دیتا رہا۔ اس حوالے سے اْس نے اپنے گناہوں کا اعتراف بھی کیا ہے۔ گزشتہ دنوں بلوچستان میں بی ایل اے کے دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا تھا، جس میں کئی بے گناہ لوگوں کو اْن کی زندگیوں سے محروم کردیا گیا تھا۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہماری سیکیورٹی فورسز نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والے تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا اور باقی مسافروں کو بخیریت بازیاب کرایا۔ اس کے بعد سے بلوچستان میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات ہورہے ہیں۔بلوچستان سے دیگر صوبوں کیلئے ٹرین آپریشن بھی بند ہے جس سے مسافرشدید پریشان ہیں۔جعفر ایکسپریس ٹرین چاروں صوبوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ یہ ٹرین کوئٹہ سے کولپور، مچھ، سبی،جیکب آباد، سکھر،رحیم یار خان، بہاولپور، ملتان، ساہیوال، لاہور، جہلم، راولپنڈی، اٹک، نوشہرہ سے پشاور پہنچتی ہے۔یوں جعفر ایکسپریس چاروں صوبوں سے گزرتی ہے لہٰذا وفاقی حکومت بلوچستان میں ٹرینوں کی سیکیورٹی پاک فوج کے سپرد کرد ے تو عوام سکون کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں۔
دہشت گردی کی حالیہ لہرکے حوالے سے گزشتہ دنوں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں دہشت گردی کے تدارک کیلئے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی میں سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تمام وسائل اور ہر آپشن استعمال کرنے اور خوراج کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ قومی سلامتی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں انسداد دہشت گردی آپریشنز کے انعقاد میں سیکیورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کو اس کی تمام شکلوں میں ختم کرنے کیلئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ کمیٹی نے ریاست کی پوری طاقت کے ساتھ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے اسٹرٹیجک اور ایک متفقہ سیاسی عزم پر زور دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے لیے قومی اتفاق کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے، لاجسٹک سپورٹ کے انسداد اور دہشت گردی و جرائم کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کی حکمت عملی پر فوری عمل درآمد پر زور دیا۔ کمیٹی نے پروپیگنڈا پھیلانے، اپنے پیروکاروں کو بھرتی کرنے اور حملوں کو مربوط کرنے کے لیے دہشت گرد گروپوں کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کی روک تھام کیلئے اقدامات پر زور دیا۔ کمیٹی نے دہشت گردوں کے ڈیجیٹل نیٹ ورکس کی سدباب کیلئے طریقہ کار وضح کرنے پر بھی زور دیا۔ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ’’اگر مگر’’کی بحث ختم ہو جانی چاہیے کیونکہ قومی اتفاق رائے موجود ہے اور اسے مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج، پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ملک کو پھر سے دہشت گردی کے اندھیروں میں دھکیلنے کی مذموم کوشش کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ بے گناہ لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے کسی طور مسلمان نہیں ہوسکتے۔ یہ فتنہ الخوارج ہیں، جن کا مقصد دشمن کی ایماء پر ملک و قوم کو نقصانات سے دوچار کرنا ہے، ان کے خلاف سیکیورٹی فورسز مصروفِ عمل ہیں۔ فتنہ الخوارج سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹنے اور ان کے جلد از جلد قلع قمع کرنے کیلئے ہماری بہادر افواج آپریشنز کر رہی ہیں۔ پاکستان پہلے بھی تن تنہا دہشت گردی کے جن کو بوتل میں بند کر چکا ہے، اس بار بھی ایسا کرنے میں جلد سرخرو ہوگا۔جب امن بحال ہو جائے گا تو ملک تیزی سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا اور خوش حالی ملک و قوم کا مقدر بنے گی۔