محمد شاہ دوتانی
پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی سے نبرد آزما رہا ہے، چند سال قبل وہ اِس پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا تھا، تاہم تین سال قبل اس نے ایک بار پھر سر اُٹھانا شروع کردیا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانی و مالی ہر قسم کا نقصان اٹھایا ہے۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے ڈانڈے بلاشبہ افغانستان سے جا ملتے ہیں جہاں طالبان حکومت اپنے پاکستانی ساتھیوں کو جو تحریک طالبان پاکستان کے نام سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہیں، مسلسل سرپرستی فراہم کر رہی ہے اور پاکستان کے ساتھ تعاون پر آمادہ نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر پیدا ہونے والے اختلاف کے اثرات دوسرے شعبوں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں جن میں سرحدی تجارت اور چیک پوسٹوں کے قیام پر اختلافات شامل ہیں۔فتنۃ الخوارج نے امریکا کے افغانستان سے انخلا کے بعد سر اُٹھانا شروع کیا۔ سیکیورٹی فورسز ان کے خاص نشانے پر ہیں۔ کبھی سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملے کیے جاتے ہیں تو کبھی قافلوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کبھی اہم تنصیبات پر دھاوا بولا جاتا ہے۔ کبھی افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی مذموم کوشش کی جاتی ہے۔ ان تمام مذموم کارروائیوں کو پاکستان کی سیکیورٹی فورسز انتہائی جانفشانی اور بہادری سے ناکام بناڈالتی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے تحت روزانہ کی بنیاد پر مختلف آپریشنز ہورہے ہیں اور دہشت گردوں کو مارا اور گرفتار کیا جارہا ہے۔ وطن عزیز پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔دنیا کے کسی اور ملک میں دہشت گردی کے خلاف نہ تو اتنی طویل جنگ لڑی ہے اور نہ ہی اتنی قربانیاں دی ہیں۔پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف بغیر کسی رکاوٹ کے مسلسل کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ہماری بہادر سیکیورٹی فورسز نے ایک نہیں،کئی بار دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی، امن دشمنوں کے ٹھکانے تباہ کیے اور معاشرے کی جڑوں میں سرایت کرچکے ان عناصر کا قلع قمع کیا لیکن آج بھی بدقسمتی سے ہمسایہ ممالک کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے دہشت گردوں کا سب سے بڑا ٹارگٹ سیکیورٹی فورسز رہی ہیں، اس کے باوجود جس عزم و ہمت کے ساتھ وہ آپریشنزکر رہی ہیں وہ یقیناً قابل تعریف ہے اور پوری قوم کے لیے اُمید کی کرن بھی۔ اس وقت پنجاب اور سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی کی اصل وجہ حکومتی رِٹ ہے جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔
دہشت گردوں نے ملک کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، معاشی خوشحالی کے مخالفوں نے سی پیک کو لپیٹنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا۔ کئی چینی ماہرین خود کش حملوں میں جاں بحق ہو گئے، ہو سکتا ہے چین کے سوا کوئی دوسرا ملک ہوتا تو وہ اب تک اس پروگرام کو لپیٹ کر اپنے ماہرین واپس بُلا چکا ہوتا لیکن چینی اب تک دوستی کی لاج رکھے ہوئے ہیں اور سی پیک کی تکمیل کے لیے پُرعزم ہیں۔عالمی طاقتوں کا آلہ کار بن کر ہم نے اپنے وجود میں کتنی دراڑیں ڈال لی ہیں۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھیں تو سوائے ایک حسرتِ ناکام کے اورکچھ بھی نظر نہیں آتا۔ جس افغانستان کو روس کے چنگل سے نکالنے کے لیے ہم نے قربانیاں دی، وہ افغانستان تو آج ہمارے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے کیوں کہ سارے دہشت گرد وہیں پناہ لیتے ہیں۔ ہم افغانستان کو غیر ملکی چنگل سے نکالنے کے لیے فرنٹ لائن بنے۔ روس کے خلاف ہم نے افغانستان کی بھرپور مدد کی۔ یہ پرائی جنگ تھی۔ اس قسم کی جنگوں کی وجہ سے قوم کولہو کا بیل بن کر رہ گئی۔ دہشت گردی کی اس جنگ سے نکلنا اب ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کو ترجیحات میں شامل کر کے اسے حل کرنے کا عزم ظاہرکیا ہے۔ اُس کے لیے اس نے جو حکمت عملی اختیارکی ہے، وہ یقیناً کارگر ثابت ہو گی۔ پاکستان پہلے بھی تن تنہا دہشت گردی کے جن کو بوتل میں بند کرکے دُنیا بھر کو حیران ہونے پر مجبور کرچکا ہے، پاکستان کو دُنیا کی سب سے بہترین اور پیشہ ور افواج کا ساتھ میسر ہے، جو محدود وسائل میں بہترین خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ وطن عزیز کے لیے اس بار بھی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنا چنداں مشکل نہیں ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو دُنیا میں سراہا اور قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سیکیورٹی فورسز جلد فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کرنے میں سرخرو ہوں گی۔