کشمیر میں نفرت اور تقسیم کی اجازت نہیں دی جا سکتی:طارق فضل چودھری

 جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر 90 فیصد عملدرآمد ہو چکا،  جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا بغیر وجہ اجلاس کا بائیکاٹ افسوسناک ہے
 کشمیر کو ہم اپنے سے الگ نہیں سمجھتے، پاکستان کی افواج سرحدوں پر قربانیاں دے رہی ہیں،  مسائل کا حل صرف مذاکرات کی میز پر ممکن ہے:امیر مقام کیساتھ پریس کانفرنس
اسلام آباد( آن لائن )وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا ہے  جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ جو معاہدہ طے پایا تھا، اس پر تفصیل سے بات کی گئی ہے اور معاہدے کے تحت ہونے والی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج اس حوالے سے ایک جوائنٹ اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں کشمیر کمیٹی کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ طارق فضل چوہدری کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں کمیٹی کے ساتھ فیصلہ ہوا تھا کہ باقاعدہ میٹنگ ہوگی، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران انتظار کے باوجود اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ہائی پاور کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی وہ خود مانیٹرنگ کرتے رہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ کسی ایک تنظیم کا مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر میں بہتری لانے کیلئے سب کی مشترکہ کوشش ہے۔ امیر مقام نے آزاد کشمیر حکومت اور وزیراعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ توقعات سے بڑھ کر اقدامات کیے گئے۔انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے مطابق 177 ایف آئی آر ختم کی جا چکی ہیں، جبکہ 15 ایف آئی آر، جو قتل کی دفعات کے تحت ہیں، ابھی باقی ہیں۔ احتجاج کے دوران گرفتار تمام افراد کو رہا کر دیا گیا ہے، جبکہ جن افراد کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی تھیں، ان کے معاملے پر آزاد کشمیر حکومت نے جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا ہے۔اس موقع پر وزیر مملکت ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تمام نکات تفصیل سے شیئر کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 29 ستمبر کو مظفرآباد میں احتجاج کی کال دی گئی تھی جس میں انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ تھا، اسی لیے وزیراعظم نے فوری طور پر کمیٹی تشکیل دی اور ہدایت دی کہ معاہدے پر من و عن عملدرآمد کیا جائے۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آج کمیٹی کی تیسری میٹنگ تھی، افسوس ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے بغیر کسی اعتراض کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر کے مسائل حل کرنے کیلئے مکمل طور پر کمیٹڈ ہے اور بغیر وجہ بائیکاٹ کرنا افسوسناک ہے۔انہوں نے بتایا کہ احتجاج کے دوران 19 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے، اس کے باوجود ایف آئی آر ختم کی گئیں۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے جبکہ زخمیوں کو دس، دس لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ معاہدے پر 90 فیصد عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ 10 فیصد نکات پر کام جاری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بعض حلقوں کی جانب سے مہاجرین کو جعلی باشندے قرار دینے جیسے بیانات دیے گئے، جو قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کو ہم اپنے سے الگ نہیں سمجھتے، پاکستان کی افواج سرحدوں پر قربانیاں دے رہی ہیں، آزاد کشمیر میں نفرت اور تقسیم کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔