عمران سے معاملات ٹھیک کریں حکومت نہیں گرنے دینگے راجہ ناصرعباس اپوزیشن سیاسی عمل کا حصہ نہیں بنناچاہتی:رانا ثناء اللہ
حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے چاہئیں‘ کسی طالع آزما کے کہنے پر بھی حکومت گرانے کی سازش میں شامل نہیں ہوں گے عمران کے ذاتی معالج کو آن بورڈ کیا جائے:اپوزیشن لیڈرکا سینیٹ میں خطاب
بانی پی ٹی آئی کو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق علاج کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں‘حکومت مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی حامی ہے مگر پی ٹی آئی نے ہمیشہ مذاکرات سے انکار کیا:رانا ثناء اللہ
اسلام آباد(یواین پی‘آن لائن) سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت کو پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے عمران خان سے معاملات ٹھیک کریں تو میں وعدہ کرتا ہوں بے شک فارم 47 والی ہی ہے آپ کی حکومت گرانے نہیں دیں گے، عمران خان کے حوالے سے بارہ سے چودہ ملکوں کے کرکٹ کپتانوں نے بھی ان کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا عمران خان کا علاج ایسا ہو جس سے ان کی فیملی مطمئن ہو اور ان کے ذاتی معالج کو آن بورڈ کیا جائے، عمران خان نہ خود باہر جانا چاہتے ہیں اور نہ ہی ان کی فیملی کی ایسی کوئی ڈیمانڈ ہے، انہوں نے کہا عمران خان کی فیملی کو سیاست نہ کرنے کا کہا گیا ہم خود اس معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتے اور اپیل کرتے ہیں اس مسئلے کو بحران بننے سے روکا جائے، کیا سینیٹ ممبران جیل نہیں جا سکتے؟ آئیں ایک بار جیل جا کر دیگر قیدیوں کو بھی دیکھ لیتے ہیں، چیئرمین کی طرف سے آرڈر جاری ہو اور اس ایوان کے دو ممبران جیل جا کر صورتحال کا جائزہ لیں، ہم سیاسی لوگ ہیں اور کسی طالع آزما کے کہنے پر خواہ یہ فارم 47 کی حکومت ہی کیوں نہ ہو اسے گرانے کی کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے، خداوند مظلوم کا ساتھی ہے چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو، اقتدار امانت ہے اور ہم اس کے مالک نہیں۔ اپوزیشن لیڈر کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے سینیٹررانا ثناء اللہ نے کہا بانی پی ٹی آئی کو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں‘حکومت مذاکرات کے زریعے مسائل کے حل کی حامی ہے مگر پی ٹی آئی نے ہمیشہ مذاکرات سے انکار کیا ہے۔ اگر کوئی زد پر اڑا ہو اور کوئی بھی بات تسلیم نہ کر رہا ہو انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر نے چار مرتبہ کہا ہے کہ سیاستدانوں کو مل بیٹھ کر کام کرنا چاہیے وہ کون تھا جو کہہ رہا تھا کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا اور کئی سال تک جدوجہد کی اور 2018میں اقتدار حاصل کیا۔ انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کی علاج کے حوالے سے خدشات پر سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا اور سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا 5ڈاکٹروں کے پینل نے معائنہ کیاانہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے رپورٹ پر اظہار اطمینان کیا ہے اور ان کے ووکلا نے مذید کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے انہوں نے کہاکہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اگر کسی کو اعتراض ہے تو سپریم کورٹ چلے جائیں انہوں نے کہاکہ ہم کہتے ہیں کہ صحت پر سیاست نہ کی جائے موجودہ حکومت نے ہمیشہ کوشش کی تھی کہ مل بیٹھ کر معاملات حل کئے جائیں ہم چاہتے ہیں کہ اپوزیشن اس ملک کی بہتری کیلئے میثاق استحکام کریں اور دہشت گردی کے خلاف ریاست کے بیانئے کے ساتھ اور پاکستان کے شہدا کے ساتھ کھڑے ہوں لیکن اپوزیشن سیاسی پراسس کا حصہ بننے سے مسلسل انکاری ہے‘وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا افغانستان کو بارہا سرحد پار دراندازی کے ثبوت دیے مگر افغان حکومت نے کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا، ہم لاشیں اٹھانے کے لیے نہیں ہیں، ہمیں ردعمل دینا آتا ہے۔ افغانستان میں ہوئی حالیہ کارروائیاں انٹیلی جنس بیسڈ تھیں، ان کارروائیوں میں دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا یہ کارروائی ایک دم سے نہیں ہوئی اس کا ایک پس منظر ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان نے طالبان حکومت کو دہشت گردوں کی افغان سرحد سے پاکستان میں دراندازی کے متعدد ثبوت پیش کیے، دہشت گردوں کے کیمپوں کی نشاندہی بھی کی، طالبان حکومت نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ 10ارب روپے دے دیں تو ہم ان دہشت گردوں کے کیمپس کو سرحد کی دوسری جانب منتقل کردیں گے، یہ ایک اعتراف تھا کہ دہشت گردوں کے کیمپ وہاں موجود تھے، پاکستان نے کہا دس ارب روپے لینے کے بعد کیا گارنٹی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی نہیں کریں گے تاہم طالبان دہشت گردی کے خاتمے کی گارنٹی بھی نہیں دے رہے تھے۔