افغانستان سے دہشت گردی اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے: طارق فضل چودھری

افغانستان سے سرحدی راستے کی بندش کے بعد 1100 سے زائد پاکستانی طلباء  وطن واپس آئے ‘947ابھی بھی وہاں موجود ہیں
  اسلام آباد (یواین پی)وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹرطارق فضل چودھری نے واضح کیا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے،افغانستان سے سرحدی راستے کی بندش کے بعد 11 سو سے زائد پاکستانی وطن واپس آئے ہیں،افغانستان کے ساتھ فضائی راستے سے آمد ورفت جاری ہے۔منگل کو قومی اسمبلی میں پاک افغان سرحد کی بندش سے طالب علموں کو پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ اس وقت 947 پاکستانی طالب علم افغانستان میں موجود ہیں اور ہمارا سفارتخانہ ان سے رابطے میں ہے۔انجم عقیل کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں زیر تعلیم طالب علموں کی کل تعداد 2050 ہے،ان میں سے اکثریت کابل اور جلال آباد میں میڈیکل کے شعبہ میں زیر تعلیم ہیں،سرحدوں کی بندش سے قبل یہ براستہ روڈ آتے جاتے تھے۔اکتوبر 2025 میں دراندازی اور پاکستانی چوکیوں پر حملے کے بعد سرحد بند کی گئی ہے۔