190 ملین پائونڈ ریفرنس کا فیصلہ پھر مئوخر

احتساب عدالت کے جج ناصر جاویدنے 18 دسمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، 
نئی تاریخ کا اعلان آج ہو گا ، ریفرنس کا جیل ٹرائل ایک سال میں مکمل ہوا 
راولپنڈی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پائونڈ ریفرنس کا فیصلہ ایک بار پھر مئوخر ہوگیا۔احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے فیصلہ آج پیر کو سنانا تھا، فیصلہ سنائے جانے کی نئی تاریخ سے متعلق آج وکلاء کو آگاہ کیا جائے گا۔عدالت نے ریفرنس کا فیصلہ 18 دسمبر کو محفوظ کیا تھا، پہلے 23 دسمبر کو کیس کا فیصلہ سنائے جانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم عدالت نے فیصلہ سنائے جانے کی تاریخ ملتوی کر کے 6 جنوری مقرر کی تھی۔یاد رہے کہ ریفرنس کا جیل ٹرائل ایک سال میں مکمل ہوا ہے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف یہ واحد کیس ہے جس کا ٹرائل ایک سال تک چلا ۔ نیب نے 13 نومبر 2023کو بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری ڈالی۔ نیب نے 17 دن تک بانی پی ٹی آئی سے اڈیالا جیل میں تفتیش کی یکم دسمبر2023کو نیب نے ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا۔ ریفرنس فائل ہونیکے بعد بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے اڈیالاجیل میں تفتیش کی گئی۔ عدالت نے 27 فروری 2024 کو فرد جرم عائد کی۔ 100 سے زائد سماعتیں ہوئیں نیب نے پہلے 59 گواہان کی فہرست عدالت میں جمع کرائی۔ 59 گواہان میں سے 24 گواہان کو نیب نے ترک کیا۔ ریفرنس میں کل 35 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ وکلا صفائی نے تمام 35 گواہان پر جرح مکمل کی۔ ریفرنس کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم پر بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے 38 سماعتوں کے بعد جرح مکمل کی ریفرنس میں سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ کیپی پرویز خٹک گواہوں میں شامل ہوئے۔ سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، القادر یونیورسٹی کے چیف فنانشل افسر بھی گواہان میں شامل تھے۔ عدالت نے ذلفی بخاری، فرحت شہزادی، مرزا شہزاد اکبر اور ضیاء￿ المصطفیٰ نسیم سمیت 6 ملزموں کو اشتہاری قرار دیا۔ اشتہاری ملزموں کی جائیدادیں اور بینک اکائونٹ منجمد کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ 190 ملین پائونڈ ریفرنس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منظور کی تھی۔ بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری ٹرائل کورٹ نے منظور کی تھی۔ 190 ملین پائونڈ ریفرنس میں 4 مرتبہ ججز کی تبدیلی ہوئی۔ ریفرنس کی سماعت پہلے جج محمد بشیر تھے، پھر جج ناصر جاوید رانا نے کیس سماعت کی، اس کے بعد ریفرنس جج محمد علی وڑائچ اور پھر دوبارہ جج ناصرجاوید رانا کے پاس آیا۔ بانی پی ٹی آئی نے دو مرتبہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا پر اعتماد کا اظہار کیا۔ بشریٰ بی بی اور عمران خان نے فرحت شہزادی کے ذریعے موہڑہ نور اسلام آباد میں 240 کنال اراضی حاصل کی۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کرپٹ پریکٹسز میں ملوث پائے گئے۔190 ملین پائونڈز یا القادر ٹرسٹ کیس میں الزام لگایا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو بھیجے گئے 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض سینکڑوں کنال مالیت کی اراضی حاصل کی۔