عدالتوں اور انصاف کے نظام کو مفلوج کردیا گیا: مہربانو قریشی

احتجاج کے دروازے بند ہوجائیں تو پھر سول نافرمانی کا احتجاج باقی رہ جاتا ہے،انٹرویو
 اسلام آباد (بیورو رپورٹ )پی ٹی آئی رہنما مہر بانو قریشی نے کہا ہے کہ جب احتجاج کے دروازے بند ہوجائیں تو پھر سول نافرمانی کا احتجاج باقی رہ جاتا ہے، عدالتوں اور انصاف کے نظام کو مفلوج کردیا گیا، اسٹیٹ بینک کے مطابق کہ دسمبر میں ترسیلات زر میں 400 ملین ڈالرکی کمی آئی ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک ترسیلات زر نہ بھیجنے اور سول نافرمانی کا تعلق ہے ، تو جب احتجاج کرنے کے سب دروازے بند ہوجائیں تو پھر سول نافرمانی ہی احتجاج کا طریقہ ہوتا ہے، عدالتوں اور انصاف کے نظام کو مفلوج کردیا گیا ہے، اگر لوگ آئینی حق کے تحت احتجاج کرتے ہیں تو ان پر گولیاں برسائی جاتی ہیں، انٹرنیٹ پر بندش ہے، سول میڈیا پلیٹ فورمز وی پی این کے بغیر استعمال نہیں کیے جاسکتے۔انہوں نے کہا لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں تو پھر لوگوں کے پاس سول نافرمانی کا طریقہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو استعمال کرکے ریاست کے سامنے اپنے مطالبات رکھ سکیں۔