کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کا کردار مشکوک: سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

 مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین ،عالمی برادری کو تنازعہ کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں
کوئٹہ (آئی این پی ) اقوام متحدہ کی موثر نمائندہ عالمی ادارے کی حیثیت تب ہی تسلیم ہو پائے گی جب اس کے روبرو آنے والے اس کے رکن ممالک کے باہمی تنازعات کے حل کے لیے اس کی قراردادوں اور فیصلوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد ہو گا ۔ ان خیالات کا اظہاچیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے یوم کشمیرپرمظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ  اقوام متحدہ کے رکن ممالک بالخصوص بڑی طاقتوں کی قیادتوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ دنیا کے تنازعات حل کرانے کے لیے اب تک اقوام متحدہ کو کیوں فعال نہیں بنا پائے۔ علاقائی اور عالمی امن کی خاطر کشمیر، فلسطین، افغانستان اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی ترجیح اول ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ5 فروری کا دن کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی اور حق خود ارادیت کے عزم کا دن ہے۔ عالمی برادری کو تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں ۔ چیئرپرسن قائمہ کمیٹی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام بھارت کی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کررہی ہے، پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے تمام سفاکانہ اقدامات کو بے نقاب کیا اور آئندہ بھی کشمیریوں کے خلاف بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے لاتا رہے گا ۔