5 فروری کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کیلئے ہمارے پختہ عزم کی تجدید کا دن ،یہ یاد دلاتا ہے کشمیر 5 اگست جیسے اقدامات سے بھارت کا حصہ نہیں بن سکتا:وزیراعظم

   بھارت  مسئلہ کشمیر پر نتیجہ خیز مذاکرات کرے شہبازشریف 

  مقبوضہ کشمیر کیلئے پاکستان کی حمایت میں کمی آئی ہے نہ آئے گی ،پاکستان اور اس کے عوام کشمیریوں کو حق خوداریت ملنے تک اور آزادی کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں‘ کشمیریوں کی آزادی کی تڑپ بھی بڑھتی جا رہی ہے
  تنازع کشمیر  پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے اور رہے گا، کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی:آزاد کشمیر  قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب‘،حریت رہنمائوں سے ملاقات میں گفتگو

مظفرآباد(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم شہباز شریف  نے   بھارت کو دعوت دی ہے   وہ مسئلہ کشمیر پر بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کرے،5 فروری یاد دلاتا ہے کشمیر 5 اگست جیسے اقدامات سے بھارت کا حصہ نہیں بن سکتا،  مقبوضہ کشمیر کیلئے پاکستان کی حمایت میں کمی آئی ہے نہ آئے گی ،پاکستان اور اس کے عوام کشمیریوں کو حق خوداریت ملنے تک اور آزادی کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں، بھارت اور خطے کے بہترین مفاد میں ہے کہ وہ پانچ اگست 2019 کی سوچ سے باہر نکلے۔ان  خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے  بدھ کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر  آزاد کشمیر  قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج 5 فروری کے دن آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مدعو کیا گیا جو میرے لیے اعزاز ہے، آج کے دن کشمیری بہنوں اور بھائیوں کو حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے اظہار یکجہتی کے لیے اپنے ساتھیوں کے ساتھ حاضر ہوا ہوں۔انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی کشمیر کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں، 5 فروری محض ایک دن نہیں بلکہ یہ ہمارے پختہ عزم کی تجدید اور یقین دہانی کا دن ہے۔ انہوں نے اس موقع پر شعر بھی پڑھا:نعرہ ہی نہیں ایمان ہے یہ آزادی کے متوالوں کا۔کشمیر کا ذرہ ذرہ ہے کشمیر کے رہنے والوں کا۔۔ وزیر اعظم پاکستان  کا کہنا تھا 5 فروری کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کیلئے ہمارے پختہ عزم کی تجدید کا دن ہے، 5 فروری کا دن بھارت کو چیخ چیخ کر یاد دلاتا ہے کہ کشمیر 5 اگست جیسے اقدامات سے کسی کا حصہ نہیں بن سکتا۔شہباز شریف کا کہنا تھا بھارت تنازع کشمیر پر بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کرے، بھارت اور خطے کے بہترین مفاد میں ہے کہ وہ 5 اگست 2019 کی سوچ سے باہر نکلے کیونکہ مسئلہ کشمیر کا حل کسی جنگ اور بربریت سے حل نہیں ہو گا۔دریں اثناء   وزیراعظم شہباز شریف نے    آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنمائوں سے ملاقات کی ۔حریت رہنمائوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حق خود ارادیت کے حصول کی جد وجہد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ عالمی برادری کو کشمیر میں بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اقدامات اٹھائے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے اور رہے گا۔ پاکستان کشمیری عوام کے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، حق خودارادیت کے حصول تک ان کی غیر متزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔