وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبہ توانائی کے شعبے میں خود کفالت اور آمدن کے نئے ذرائع کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے صوبائی حکومت امن و امان پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
پشاور میں توانائی و معدنیات سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں تیل و گیس کی دریافت نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ کاروباری سرگرمیوں اور صنعتی شعبے کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ قدرتی وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے اور تمام فیصلے انہی کے مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔سہیل آفریدی نے بتایا کہ صوبائی حکومت توانائی کے مختلف منصوبوں پر "روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر" کام کر رہی ہے تاکہ نجی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے اور صوبے کی معیشت کو مستحکم بنیاد دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کے پی حکومت سرمایہ کاروں اور صنعتی شعبے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔
تقریب میں وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ میران بلاک کے 49 فیصد شیئرز او جی ڈی سی ایل کو منتقل کر دیے گئے ہیں جبکہ 51 فیصد شیئرز کے پی او جی سی ایل کے پاس برقرار رہیں گے۔ کنسورشیم کی قیادت او جی ڈی سی ایل کرے گا، جبکہ جی ایچ پی ایل اور پی پی ایل بھی اس منصوبے کے شراکت دار ہوں گے۔مزید بتایا گیا کہ کے پی او جی سی ایل کے 51 فیصد شیئرز کی سرمایہ کاری بھی کنسورشیم ہی فراہم کرے گا۔ کنسورشیم معاہدے کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں تقریباً 22 ارب روپے کی سرمایہ کاری آئی ہے جبکہ اس معاہدے سے صوبائی حکومت اور کے پی او جی سی ایل کو 12 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔