فضائی آلودگی کے مسئلے پر سائنسی بنیادوں پر فیصلے کیے جا رہے ہیں: مریم اورنگزیب

فضائی آلودگی کے مسئلے پر سائنسی بنیادوں پر فیصلے کیے جا رہے ہیں: مریم اورنگزیب

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے فضائی آلودگی کے مسئلے پر حکومت کے اقدامات اور حکمت عملیوں کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔

 پنجاب حکومت فضائی آلودگی اور اسموگ کے خلاف سائنسی بنیادوں پر فیصلے کر رہی ہے تاکہ مؤثر اور کارگر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔انہوں نے بتایا کہ لاہور میں شمال مغربی ہواؤں کے باعث آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر اسموگ کنٹرول کے لیے خصوصی مشینری، واٹر باؤزرز اور انسپیکشن ٹیمیں ہائی الرٹ پر ہیں۔ یہ ٹیمیں شہر میں اسموگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے مسلسل مانیٹرنگ کر رہی ہیں اور فوری اقدامات کر رہی ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب حکومت اس خطے میں سب سے جامع اور موثر اینٹی اسموگ پلان پر عمل پیرا ہے، جس میں شہریوں کو بروقت آگاہی فراہم کرنے اور مسلسل نگرانی کا نظام شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فضائی معیار کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ محکمے 24 گھنٹے سرگرم عمل ہیں اور صنعتی شہروں سے آنے والی آلودگی کا سائنٹیفک میپنگ کے ذریعے مکمل ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومتی کوششوں سے جلد ہی واضح بہتری آئے گی۔ فصلوں کی باقیات جلانے کی صورت میں تیزی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں ڈرون سرویلنس اور گراؤنڈ ٹیموں کی کارروائیاں شامل ہیں تاکہ فصلوں کی باقیات کے جلانے کو روکا جا سکے۔

مزید برآں، فضائی معیار کے حوالے سے رئیل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ، وارننگ سسٹمز اور فوری رسپانس یونٹس کو مضبوط کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی یا صورتحال کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد سیاسی بیانات سے ہٹ کر صرف عوام کی صحت کو ترجیح دینا ہے۔انہوں نے شہریوں سے درخواست کی کہ حساس افراد غیرضروری باہر نکلنے سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں، پانی زیادہ سے زیادہ پئیں اور اگر سانس میں تکلیف ہو تو فوراً قریبی اسپتال سے رجوع کریں۔ ان اقدامات کا مقصد فضائی آلودگی سے بچاؤ اور صحت کے تحفظ کے لیے ایک مربوط اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام قائم کرنا ہے۔