پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ برس پنجاب میں 95 فیصد اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا، جبکہ 1191 بھٹے مسمار اور 1335 سیل کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ آلودگی پھیلانے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں ساہیوال، چنیوٹ، فیصل آباد، رحیم یار خان، اور بہاولپور میں مجموعی طور پر 25 غیر زگ زیگ بھٹے مسمار کیے گئے ہیں۔اسی طرح لاہور سمیت پنجاب بھر میں 22 صنعتی یونٹس بند اور 29 سیل کیے گئے، جن میں ٹیکسٹائل، اسٹیل ملز، رائس ملز، اور پلاسٹک فائبر یونٹس شامل ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے سخت فیصلے ضروری ہیں، اور اس سے عوامی صحت اور زرعی پیداوار میں بہتری آئے گی۔ بھٹہ مالکان اور صنعتکاروں کو ماحولیاتی قوانین کی پابندی کی ہدایت دی گئی ہے۔