ہمارے سے بہتر پختون قوم ،چالیس سالوں سے بم دھماکا کھا رہے ، جج
زرتاج اور عمر ایوب کی ضمانت میں توسیع، آئندہ حاضری یقینی بنانے کی ہدایت
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپراکی عدالت نے ڈی چوک میں احتجاج کے معاملہ پرتھانہ سیکرٹریٹ میں درج مقدمہ میں گرفتار 146 ملزموں کو مزید پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔گزشتہ روز سماعت کے دوران پولیس نے گرفتار146 کارکنوں کو عدالت پیش کیا،جج طاہر عباس سپرا نے نائب کورٹ انصر سے استفسار کیاکہ کیا گنتی پوری ہے،جس پر نائب کورٹ نے بتایاکہ جی گنتی پوری ہے، 146 ملزم ہیں،جج نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیاکہ پولیس نے بیس بیس دن کا ریمانڈ مانگا ہے،ان ملزموں کا پہلے کتنے دن کا ریمانڈ ہوا ہے،جس پر پراسیکیوٹر راجہ نوید نے کہاکہ پانچ دن کا ریمانڈ ہوا ہے کچھ برآمدگیاں ہو چکی ہیں،ہم نے تفتیش اور ثبوت اکٹھے کرنے ہیں۔ استدعا ہے کہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔وکیل نے کہاکہ شیخ فرید اور خرم شہزاد دونوں کو پمز ہسپتال سے اٹھایا گیا ہے،چار دیگر ملزم بعد میں اٹھائے گئے وہ عمر ایوب کے ذاتی گن مین ہیں،افغانستان کے شہریوں کی گرفتاری پر جج نے وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ آپ ایسے بات نہ کریں اس مقدمہ میں پنجابی بھی ہیں،ہمارے سے بہتر پختون قوم ہے جو پچھلے چالیس سالوں سے بم دھماکوں کا سامنا کر رہے ہیں،بعد ازاں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے تمام146 کارکنوں کو مزید پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم سنادیا۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا کی عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں زرتاج گل اور عمر ایوب کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔گزشتہ روز ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کے دوران دونوں ملزموں کے عدالت حاضر نہ ہونے پر جج طاہر عباس سپرا نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ آئندہ تاریخ پر اگر پیش نہ ہوئے تو درخواست ضمانتیں خارج کر دونگا،آپ نے خود کہا تھا انتظار میں رکھیں میں نے کہا تھا ضمانتیں خارج ہو جائینگی،عدالت نے دونوں ملزموں کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 14 دسمبر تک کیلئے ملتوی کردی۔