علیمہ خان، بانی پاکستان پی ٹی آئی عمران خان کی بہن، نے حال ہی میں میڈیا سے گفتگو میں پارٹی اور حکومت کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کل کراچی، لاہور اور پشاور میں پارٹی کے کارکنان نے احتجاج کیا، مگر انہیں اڈیالہ جیل جانے سے روکا گیا۔ علیمہ خان کے مطابق، جیل روڈ پر 400 پولیس اہلکار ٹیر گیس کے ساتھ موجود تھے اور انہیں روکنے کے لیے تعینات تھے۔انہوں نے کہا کہ عوام کا خوف آزمانا نہیں بلکہ حکومتی خوف کا مقابلہ کرنا چاہیے، کیونکہ لوگ اپنے حق کے لیے نکلنا چاہتے ہیں۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی کل احتجاج میں شریک نہیں تھے، مگر وہ دوبارہ آئیں گے۔ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ عوام اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے توشہ خانہ کیس کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ یہ کیس چھپایا جا رہا ہے اور اس کا ٹرائل ناجائز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں کو نااہل قرار دینے اور سزا دینے کا عمل جلدی میں ہے، اور الیکشن کمیشن بھی جلد بازی میں کارروائی کر رہا ہے۔
وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ فیئر ٹرائل ہونا چاہیے، جس میں خاندان، میڈیا اور وکلاء موجود ہوں۔علیمہ خان نے مزید کہا کہ ان کے لیڈرز کو بھی نااہل کیا گیا ہے اور کئی لوگوں کو سزا دی گئی ہے۔ وہ موجودہ حالات میں دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں، اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب 27ویں اور 28ویں ترمیم بھی زیرِ غور ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انہیں اور دیگر افراد کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو سیاسی اور قانونی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔