شہباز شریف عمران خان پر جو تنقید کرتے تھے، اب وہی کام خود کررہے ہیں:مفتاح اسماعیل

شہباز شریف عمران خان پر جو تنقید کرتے تھے، اب وہی کام خود کررہے ہیں:مفتاح اسماعیل

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ماضی میں عمران خان کی حکومت پر جن مسائل کی تنقید کرتے تھے، اب وہی مسائل خود اٹھا رہے ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ شہباز شریف نے آٹا سستا کرنے کا دعویٰ کیا ہے، مگر گندم کی قیمتوں میں اضافے کے باعث یہ اقدام مؤثر نہیں ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے سولر پاور میٹر پر قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے گھروں میں سولر میٹر لگائیں گے، تاہم اب نیٹ میٹرنگ کو ختم کرکے گروس میٹرنگ متعارف کروا دی گئی ہے، جس سے عوام پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ مفتاح اسماعیل نے اس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سولر میٹرز پر 8 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس عائد کیا ہے، جس سے بجلی کے بلوں میں اضافہ ہوگا۔مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ حکومت نے جھوٹے اشتہارات کے ذریعے عوام کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ سولر صارفین مفت بجلی لے رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی پروڈکشن اور ڈسٹریبیوشن کے مسائل کی وجہ سے بجلی ضائع ہو رہی ہے، جس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔

 انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ آئی پی پیز سے 70 روپے فی یونٹ کی بجلی خریدی جا رہی ہے، جو کہ عوام اور ملک کے لیے بوجھ بن چکی ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ شہباز شریف کو بتانا چاہیے کہ یہ مہنگے بجلی گھر کس نے لگائے اور کیوں ان کا بوجھ سولر صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے چینی کی برآمد کی اجازت دے کر مل مالکان کو فائدہ پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے چینی کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور اس کی قیمت 140 سے 180 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔سابق وزیر خزانہ نے ایک اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے ماضی میں عمران خان کی حکومت پر جن معاملات کی تنقید کی تھی، آج وہی خود کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آٹا سستا کرنے کا دعویٰ کیا گیا، لیکن گندم کی قیمتوں میں اضافے نے اس دعوے کی حقیقت کو مشکوک بنا دیا ہے۔