ماحول گرم کرنے اور کاغذ پھاڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، مسئلہ بات کرنے سے ہی حل ہو گا ،محمود خان اچکزئی ہمارے بڑے ہیں جتنی سخت باتیں کریں برا نہیں منائوں گا:وزیرقانون
آئیں ہم سب توبہ کریں اور ایک دوسرے کو معاف کریں،تمام صوبوں کو اپنے وسائل کا حق دیں، اگر خانہ جنگی ہوئی تو شہباز شریف کی حکومت ذمے دار ہوگی:محمود خان اچکزئی
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی حکومت نے اپوزیشن کو 26ویں ترمیم میں بہتری لانے کے لیے مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے ماحول گرم کرنے اور کاغذ پھاڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، مسئلہ بات کرنے سے ہی حل ہو گا جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آئیں ہم سب توبہ کریں اور ایک دوسرے کو معاف کریں،تمام صوبوں کو اپنے وسائل کا حق دیں، اگر خانہ جنگی ہوئی تو شہباز شریف کی حکومت ذمے دار ہوگی ۔منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذر تارڑ نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئیں ہمارے ساتھ بیٹھیں اور بتائیں کہ اس ترمیم کو کیسے بہتر بنائیں؟ ہم کل بھی تیار تھے آج بھی تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماحول گرم کرنے اور کاغذ پھاڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، مسئلہ بات کرنے سے ہی حل ہو گا۔وزیر قانون کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم سے عدالتوں سے ہونے والی پارلیمان کی بے توقیری کو روکا گیا ہے، پوری دنیا میں ججوں کے تقرر کا یہی طریقہ رائج ہے، 26ویں ترمیم کے بعد زیرالتوا کیسز کم ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی ہمارے بڑے ہیں جتنی سخت باتیں کریں برا نہیں منائوں گا۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرے بارے میں بہت سخت باتیں کی ہیں میری تربیت نہیں کہ ان کی بات کا جواب دوں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کسی سیاسی مصلحت کے تحت پنجاب اور کے پی اسمبلی تحلیل کردی گئی، 2 مئی شام کی بات ہے کہ ہمارا پی ٹی آئی سے پورے ملک میں اکٹھے الیکشن پر اتفاق ہوگیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پھر بانی پی ٹی آئی کا فون آیا اور شاہ محمود نے کہا کہ کوئی حوصلہ افزا خبر نہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم میں پارلیمنٹ کو مضبوط کیا گیا، اس ترمیم میں بارز کو تسلیم اور مضبوط کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ آئیں سر جوڑ کر بیٹھیں مسئلے حل ہوسکتے ہیں۔قبل ازیں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئیں ہم سب توبہ کریں اور ایک دوسرے کو معاف کریں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آپ نے کہا کہ ایک ممبر نے آئین کی پاسداری نہیں کی۔ آپ ایوان کے کسٹوڈین کی حیثیت کھو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ کے ممبران کو یہاں سے کھینچ کر نکالا گیا، اگر آپ کسٹوڈین رہنا چاہتے ہیں تو آپ اس پر بحث کروائیں، جو اراکین کو ملاقات کی اجازت نہیں دیتا اس کو نکالیں۔محمود خان اچکزئی نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے مقبول لیڈر ہے۔اس پر اسپیکر قومی نے کہا کہ آپ سب کو اکٹھے بیٹھنا پڑے گا، بات کرنا پڑے گی‘انہوں نے کہا کہ ایک نئی سیاست کا آغاز کریں جس میں فیصلے یہ ایوان کرے، تمام صوبوں کو اپنے وسائل کا حق دیں، اگر خانہ جنگی ہوئی تو شہباز شریف کی حکومت ذمے دار ہوگی۔