پاکستان اور ترکی عدالتی شعبے میں تعاون کے لیے باضابطہ معاہدے پر دستخط کریں گے

پاکستان اور ترکی عدالتی شعبے میں تعاون کے لیے باضابطہ معاہدے پر دستخط کریں گے

پاکستان اور ترکی کے درمیان عدالتی شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے آج ایک اہم پیش رفت سامنے آ رہی ہے، جس میں دونوں ممالک باہمی مفاہمت اور تجربات کے تبادلے کے لیے باضابطہ معاہدے (Memorandum of Understanding – MoU) پر دستخط کریں گے۔

 اس تقریب کا انعقاد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے احاطے میں کیا جائے گا، جس میں ترک وفد بھی شریک ہوگا جس کی قیادت صدر قادر اوزکایا کر رہے ہیں۔ ترک وفد پاکستان کے چار روزہ دورے پر ہے (6 تا 9 اپریل)۔

معاہدے کا مقصد اور اہم نکات:
عدالتی تعاون کو فروغ دینا: دونوں ممالک کے ججز اور عدالتی عملے کی تربیت اور تجربات کے تبادلے کے ذریعے عدالتی نظام کی استعداد بڑھانا۔
جدید عدالتی طریقہ کار: ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو زیادہ مؤثر بنانا۔
ضلعی عدلیہ کی ترقی: مقامی عدالتوں کی پیشہ ورانہ مہارت کو بہتر بنانے کے اقدامات۔
عدالتی اصلاحات: مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام اور تجربات کے تبادلے کے ذریعے عدالتی اصلاحات کو مضبوط بنانا۔
قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی خودمختاری: دونوں ممالک کے درمیان قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنے اور عدلیہ کی خودمختاری کو فروغ دینے کے اقدامات زیر غور آئیں گے۔
دیگر سرگرمیاں:
ترک وفد اپنے قیام کے دوران ٹیکسلا اور لاہور کے تاریخی مقامات کا دورہ بھی کرے گا۔تقریب براہِ راست نشر کی جائے گی، جس میں اعلیٰ عدالتی شخصیات اور حکام شریک ہوں گے۔
یہ معاہدہ پاکستان اور ترکی کے عدالتی نظاموں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور عالمی معیار کے مطابق عدالتی عمل کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔