تاشقند: پاکستان اور ازبکستان نے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) اور معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔
ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقدہ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور ازبک صدر شوکت مرزایوف نے شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تاشقند اور لاہور کے درمیان تعاون، معلومات کے تبادلے، سائنس و ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کے امور سے متعلق ایم او یوز پر دستخط کیے گئے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر شوکت مرزایوف نے ایک مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم نے ازبک صدر کو دورۂ پاکستان کی دعوت دی، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب
وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں، جو درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت میں اضافہ دونوں کے مفاد میں ہے، اور پاکستان ازبکستان کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا:
"ہم نواز شریف کے ترقیاتی ویژن پر عمل پیرا ہیں، اور پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔"
"مہنگائی میں کمی آ رہی ہے، آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور پالیسی ریٹ میں کمی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔"
"ازبکستان کے ترقیاتی ماڈل سے مستفید ہوں گے اور مختلف شعبوں میں تعاون سے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔"
افغانستان سے متعلق تبصرہ
وزیراعظم نے اس موقع پر خطے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، اور پاکستان اس معاملے پر ازبکستان کے ساتھ مزید مشاورت جاری رکھے گا۔
ازبک صدر کا بیان
ازبک صدر شوکت مرزایوف نے وزیراعظم شہباز شریف کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تزویراتی تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا:
"دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو 2 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔"
"علاقائی اور عالمی فورمز پر پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رہے گا۔"
"پاکستانی کاروباری برادری کی تاشقند میں موجودگی خوش آئند ہے، اور سرمایہ کاری و تجارت کے حوالے سے مفید گفتگو ہو رہی ہے۔"
تعلقات میں مزید پیشرفت متوقع
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان بات چیت کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ایک پاکستانی وفد جلد تاشقند پہنچے گا، جبکہ ازبکستان کو بھی ایک وفد پاکستان بھیجنے کی دعوت دی گئی ہے۔یہ معاہدے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔