لبنان: اسرائیلی حملے، خاتون سمیت 5 افراد جا ںبحق،نقل مکانی کا حکم

صیہونی فوج بوکھلاہٹ کا شکار، اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے اسرائیلی فوجی مارا گیا
بیروت،تل ابیب(آئی این پی ) جنوبی لبنان میں قصبہ معرکہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں خاتون سمیت 5 افراد جا ںبحق ہو گئے جبکہ فرینڈلی فائر کے واقعے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا، اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام اور لبنان کے درمیان واقع سرحدی گزرگاہ کو نشانہ بنانے جا رہی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔ لبنانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے بطولے اور شہابیہ کے علاقوں کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا، جہاں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، اس سے قبل جنوبی قصبے حبوش میں ایک حملے میں 2 بچیاں جاں بحق اور 22 افراد زخمی ہوئے تھے۔اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقے کفر حتہ کے رہائشیوں کو فوری انخلا کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان اویخائے ادرعی نے کہا ہے کہ علاقے کے مکین فوری گائوں سے کم از کم ایک ہزار میٹر دور منتقل ہو جائیں، کیونکہ فوج جلد اس علاقے میں شدید کارروائی کرنے والی ہے۔ ادھر جنوبی لبنان میں فرینڈلی فائر کے واقعے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا، واقعے سے متعلق صیہونی فوج کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے فوجی کی شناخت 21 سالہ سارجنٹ فرسٹ کلاس گائے لوڈر کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق کمانڈو بریگیڈ کی مگلان یونٹ سے تھا۔یہ واقعہ رات تقریبا 3 بجے جنوبی لبنان کے ایک گائوں شیبا میں ایک گرفتاری کے آپریشن کے دوران پیش آیا، مگلان کمانڈوز نے ایک ایسے مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے کیلئے چھاپہ مارا تھا جس پر مبینہ طور پر حزب اللہ کی مدد کرنے کا الزام تھا۔اسرائیلی فوج کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتاری کے دوران ایک فوجی نے سمجھا کہ کچھ مشتبہ افراد فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اس دوران اس نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں گائے لوڈر ہلاک ہو گیا جبکہ ایک اور فوجی شدید زخمی ہوا۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے گرفتاری کا مشن مکمل کر لیا گیا اور مشتبہ شخص کو پوچھ گچھ کے لیے اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے، واقعے کے حالات کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔غیرملکی خبر رساںادارے کے مطابق اسرائیل کا موقف ہے کہ اس گزرگاہ کو اسلحہ سمگلنگ کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے، فوج نے علاقے میں موجود افراد کو فوری طور پر انخلا کی ہدایت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ شدید خطرے میں ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ گزرگاہ زیادہ تر ان شامی شہریوں کیلئے استعمال ہو رہی ہے جو جنگ کے بعد لبنان سے واپس جا رہے ہیں جبکہ یہ انسانی امداد کی ترسیل کیلئے بھی ایک اہم راستہ ہے، جس علاقے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے وہ تقریبا ساڑھے 3 کلومیٹر پر مشتمل نو مینز لینڈ کا حصہ ہے، جہاں سیکڑوں ٹرک کئی ماہ سے کھڑے ہیں۔سرحدی علاقے سے آنے والی اطلاعات کے مطابق لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے، شہری پیدل فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ٹرکوں کو ہٹانے کی کوششوں کے باعث افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی طاقت نے اسرائیلی فوج کو حیران کر دیا ہے۔اسرائیل فوجی کمانڈکے سربراہ رفی میلیو ماسگب نے کہاکہ حزب اللہ فعال ہے اور ان کیپاس تقریبا10ہزار راکٹ اور متعدد لانچرز موجود ہیں۔رفی میلیو ماسگب کا کہنا تھا کہ حزب اللہ 6 ماہ تک روزانہ 500 راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے، حزب اللہ کے بارے میں سوچا کچھ تھا اور حقیقت کچھ اور ہے۔