وزیراعلیٰ پنجاب کی ای بائیکس اسکیم سے مستفید ہونے والے طلبہ و طالبات کی سہولت کے لیے لاہور میں سکوٹی ڈرائیونگ ٹریننگ اسکولز اور خصوصی لائسنس کاؤنٹرز قائم کر دیے گئے ہیں۔
سی ٹی او لاہور کی ہدایت پر ای بائیک اسکیم کے طلبہ و طالبات کے لیے 5، 5 ڈرائیونگ ٹریننگ اسکولز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ تمام ڈرائیونگ لائسنس سینٹرز میں سکوٹی لائسنس کے لیے الگ کاؤنٹرز بھی بنا دیے گئے ہیں۔سی ٹی او لاہور کے مطابق سکوٹی لائسنس کے حصول کے لیے طلبہ و طالبات کو صرف اپنا شناختی کارڈ ہمراہ لانا ہوگا۔لاہور میں آبشار ڈرائیونگ اسکول، لبرٹی خدمت مرکز، گریٹر اقبال پارک، ٹریفک پولیس لائنز مناواں اور ایل او ایس فیروزپور روڈ پر سکوٹی ٹریننگ اسکولز قائم کیے گئے ہیں۔ ایل او ایس فیروزپور روڈ پر قائم اسکول میں صرف خواتین کو مفت سکوٹی چلانے کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق اب تک 8 ہزار 220 خواتین نے کار ڈرائیونگ جبکہ 7 ہزار 290 خواتین نے سکوٹی چلانے کی مفت تربیت حاصل کی ہے۔ رواں سال بھی 1 ہزار 629 خواتین نے ڈرائیونگ اسکولز سے تربیت مکمل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور ٹریفک پولیس کے ڈرائیونگ اسکولز سے ہزاروں خواتین بااعتماد ڈرائیور بن چکی ہیں۔ خواتین کو ڈرائیونگ کی تربیت دے کر انہیں خودمختار اور بااختیار بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ سکوٹی اسکولز میں خواتین کو ’ویمن ٹو ویمن‘ سروس بھی فراہم کی جا رہی ہے۔سی ٹی او کے مطابق شہر بھر میں خواتین کے لیے سکوٹی ڈرائیونگ کی تربیت کے 5 جبکہ گاڑی چلانے کی تربیت کے لیے 12 ڈرائیونگ اسکولز قائم کیے گئے ہیں۔سید عبدالرحیم شیرازی کا کہنا تھا کہ خواتین بااختیار ہوں گی تو معاشرے میں مثبت اور واضح تبدیلی آئے گی۔ معاشرتی اور سماجی ترقی کے لیے مردوں کے ساتھ خواتین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔