خصوصی بچوں کی تعلیم میں ڈیجیٹل انقلاب، سندھ میں 49 کلاس رومز اور 20 سیٹلائٹ اسکولز کا افتتاح

خصوصی بچوں کی تعلیم میں ڈیجیٹل انقلاب، سندھ میں 49 کلاس رومز اور 20 سیٹلائٹ اسکولز کا افتتاح

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں خصوصی بچوں کے لیے 49 جدید ڈیجیٹل کلاس رومز، 20 سیٹلائٹ اسکولز اور سائن لینگویج ٹیچرز ٹریننگ پروگرام کا افتتاح کردیا۔

محکمہ اسپیشل ایجوکیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کا عزم ہے اور جدید ٹیکنالوجی خصوصی بچوں کے تعلیمی تجربے کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔سید مراد علی شاہ کے مطابق خصوصی تعلیمی اداروں میں قائم کیے گئے ڈیجیٹل کلاس رومز میں اسمارٹ بورڈز، ای لرننگ ٹولز اور دیگر جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ان سہولیات کا مقصد خصوصی بچوں کو جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور انہیں ڈیجیٹل دنیا میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صرف انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی کافی نہیں بلکہ اصل ترقی ان سہولیات کو استعمال کرنے والے افراد کی صلاحیتوں سے وابستہ ہے۔ اسی مقصد کے تحت ڈیجیٹل تعلیمی اقدامات کے ساتھ سائن لینگویج ٹیچرز ٹریننگ پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سائن لینگویج ٹیچرز ٹریننگ پروگرام ڈیف ریچ اور ایف ای ایس ایف کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔ پروگرام کے ذریعے اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ سماعت سے محروم اور دیگر خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کو بہتر اور مؤثر انداز میں تعلیم فراہم کی جاسکے۔

سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت خصوصی بچوں کی فلاح، تعلیم اور بحالی کے لیے پرعزم ہے۔ صوبے بھر کے 67 خصوصی تعلیمی اداروں میں تقریباً 20 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں، جہاں بچوں کو مختلف بنیادی سہولیات مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔وزیراعلیٰ کے مطابق خصوصی بچوں کو مفت تعلیم کے ساتھ بحالی، فزیوتھراپی اور اسپیچ تھراپی کی سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کے لیے مفت ٹرانسپورٹ اور غذائیت سے بھرپور کھانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ خصوصی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کو ماہانہ 3 ہزار روپے وظیفہ بھی دیا جا رہا ہے، تاکہ ان کے تعلیمی سفر میں معاونت فراہم کی جاسکے۔وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خصوصی بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، تاکہ انہیں تعلیم، تربیت اور بحالی کے بہتر مواقع فراہم کیے جاسکیں۔