ویب ڈیسک: یو اے ای میں منگل سے شروع ہونے والے ایشیا کپ میں دفاعی چیمپئن بھارت کو فیورٹ قرار دیا گیا ہے، تاہم ٹیم کو میچ پریکٹس کے فقدان کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔
بھارتی ٹیم نے آخری ٹی ٹوئنٹی میچ فروری میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا تھا اور اس کے بعد کھلاڑی مختلف فارمیٹس میں مصروف رہے، مگر ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں حصہ نہیں لیا۔ ایشیا کپ کے 15 رکنی اسکواڈ میں سے صرف سنجو سیمسن، رنکو سنگھ، سوریاکمار یادیو، شیوام دوبے اور ہرشت رانا نے ملکی لیگز میں میچ پریکٹس حاصل کی، جبکہ دیگر کھلاڑی نیٹ پریکٹس تک محدود رہے۔دوسری جانب پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، افغانستان اور میزبان یواے ای اس عرصے میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیل رہے ہیں، جس سے ان کی ٹیموں کو خود کو تیار کرنے کا بھرپور موقع ملا ہے۔
سابق بھارتی آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے کہا کہ اگر بھارت کو کسی ٹیم سے محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی تو وہ افغانستان ہے، کیونکہ سلو پچز پر ان کے بولرز مشکل پیدا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی ٹیم میچ پریکٹس کے فقدان کے باوجود خود کو بہتر انداز میں تیار کر رہی ہے اور شروع میں کچھ پریشانی کے بعد ٹیم کو کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوگا۔