ملک میں مہنگائی کی رفتار میں مزید تیزی آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 1.29 فیصد رہی، جبکہ پچھلے ہفتے یہ 0.62 فیصد تھی۔ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 3.57 فیصد سے بڑھ کر 5.07 فیصد ہو گئی ہے۔
قیمتوں میں نمایاں اضافہ درج ذیل اشیاء میں ہوا:
ٹماٹر: 46.03%
گندم کا آٹا: 25.41%
پیاز: 8.57%
آلو: 1.38%
باسمتی ٹوٹا چاول: 2.62%
دال مونگ: 1.29%
ایل پی جی: 0.88%
لہسن: 2.04%
بریڈ: 1.19%
لانگ کلاتھ: 0.17%
جبکہ چند اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی:
کیلوں: 3.86%
ڈیزل: 0.91%
چینی: 0.13%
سرسوں کا تیل: 0.10%
رپورٹ میں آمدنی کے مختلف طبقوں کے لیے مہنگائی کے اثرات بھی بیان کیے گئے ہیں:
ماہانہ 17,732 روپے تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے: 5.60%
17,733 سے 22,888 روپے: 6.09%
22,889 سے 29,517 روپے: 6.03%
29,518 سے 44,175 روپے: 5.82%
44,176 روپے سے زائد: 3.78%
حالیہ مہنگائی کے رجحان سے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی پر واضح اثر پڑ رہا ہے، خاص طور پر بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بڑھوتری کی وجہ سے۔