ویب ڈیسک: ملک میں مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، رواں مالی سال 2025-26 کے دوسرے ہفتے میں بھی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا گیا۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.95 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پچھلے ہفتے یہ شرح 0.73 فیصد تھی۔ سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی رفتار 1.23 فیصد تک جا پہنچی ہے۔
مہنگی ہونے والی اشیائے ضروریہ:
رپورٹ کے مطابق 19 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جن میں نمایاں طور پر درج ذیل اشیاء شامل ہیں:
چکن: 22.61%
ٹماٹر: 13.45%
پیاز: 6.25%
آلو: 2.79%
ایل پی جی: 2.56%
لہسن: 2.36%
چینی: 1.90%
گڑ: 1.89%
باسمتی ٹوٹا چاول: 0.84%
سستی ہونے والی اشیاء:
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 6 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جن میں شامل ہیں:
ایل پی جی: 2.56% کمی
سرسوں کا تیل: 0.81% کمی
دال مونگ: 0.41% کمی
کوکنگ آئل: 0.20% کمی
وناسپتی گھی: 0.02% کمی
آٹا: 0.02% کمی
مختلف آمدنی گروپس پر اثر:
اعداد و شمار کے مطابق مختلف آمدنی کے حامل طبقوں پر مہنگائی کا اثر درج ذیل رہا:
17,732 روپے تک آمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح: 1.06% اضافہ
17,733 سے 22,888 روپے تک آمدنی والے طبقے کے لیے: 1.10% اضافہ
22,889 سے 29,517 روپے تک آمدنی والے طبقے کے لیے: 0.99% اضافہ
29,518 سے 44,175 روپے آمدنی والے طبقے کے لیے: 1.02% اضافہ
44,176 روپے سے زائد آمدنی والے طبقے کے لیے: 0.88% اضافہ
نتیجہ:
ملک میں مہنگائی سے سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے طبقے پر پڑ رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں پر قابو نہ پایا گیا تو عوام کی قوت خرید مزید متاثر ہو سکتی ہے۔