ملک میں مہنگائی کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح میں ہفتہ وار بنیادوں پر 0.24 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح کم ہو کر 3.75 فیصد کی سطح پر آ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 17 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں جبکہ 14 اشیا کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جب کہ 20 اشیا کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رہیں۔اعداد و شمار کے مطابق چکن کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو فی کلو 40 روپے 34 پیسے مہنگا ہو گیا۔ اسی طرح انڈے فی درجن 10 روپے 31 پیسے مہنگے ہوئے جبکہ جلانے کی لکڑی فی من 12 روپے 35 پیسے مہنگی ہو گئی۔ دال مونگ کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو فی کلو 1 روپے 17 پیسے بڑھ گئی۔مہنگی ہونے والی دیگر اشیا میں دہی، تازہ دودھ، مٹن اور خشک دودھ بھی شامل ہیں، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب کچھ اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ٹماٹر فی کلو 9 روپے ایک پیسہ سستے ہوئے، آلو کی قیمت میں فی کلو 5 روپے 08 پیسے کمی آئی جبکہ چینی فی کلو 7 روپے 09 پیسے سستی ہوئی۔ اس کے علاوہ ڈیزل، دال مسور اور ایل پی جی سلنڈر بھی سستی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق بریڈ، گندم کا آٹا، کپڑے اور دیگر 20 اشیا کی قیمتیں گزشتہ ہفتے کے دوران مستحکم رہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں کمی آئی ہے، تاہم ہفتہ وار اضافے نے عام شہری کی خریداری کی قوت کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔