پاکستانی اداکار، میزبان اور ہدایت کار یاسر حسین نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے بدلتے معیار پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی مارکیٹ کو مدنظر رکھ کر مواد بنانے سے پاکستانی ڈراموں کی اصل شناخت اور معیار متاثر ہوا۔
ان کا یہ بیان ایک نجی پروگرام میں سامنے آیا جہاں انہوں نے ڈرامہ انڈسٹری کے موجودہ رجحانات پر تنقید کی۔یاسر حسین کے مطابق ماضی میں پاکستانی ڈرامے اپنی مضبوط کہانی، تہذیبی اقدار، محدود اقساط اور معیاری پیشکش کے باعث دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتے تھے، مگر جب بھارت میں ان ڈراموں کی مقبولیت بڑھی تو متعدد پروڈیوسرز نے بھارتی ناظرین کی پسند اور تجارتی رجحانات کے مطابق مواد تیار کرنا شروع کر دیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی ناظرین پاکستانی ڈراموں کو ان کے کلاس، جذباتی گہرائی اور بہتر تحریر کی وجہ سے پسند کرتے تھے، لیکن بدقسمتی سے پاکستانی انڈسٹری نے اپنے معیار کو مزید بلند کرنے کے بجائے خود کو نسبتاً کمزور اور سطحی رجحانات کے مطابق ڈھال لیا، جس کے نتیجے میں کئی ڈراموں میں یکسانیت اور غیر ضروری طوالت بڑھ گئی۔
یاسر حسین کا کہنا تھا کہ جب تخلیقی صنعتیں صرف بیرونی مارکیٹ کی پسند کے تابع ہو جائیں تو مقامی شناخت، زبان، ثقافت اور کہانی کا اصل رنگ دھندلا جاتا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں کچھ صارفین نے ان کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے حالیہ ڈراموں کے معیار پر سوال اٹھائے، جبکہ بعض نے اسے مبالغہ آمیز قرار دیا۔ آن لائن ناظرین کے تبصروں میں بھی اس مؤقف پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔واضح رہے کہ یاسر حسین اس سے قبل بھی پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے معیار، کہانیوں کی تکرار اور تجارتی دباؤ پر تنقیدی رائے دیتے رہے ہیں۔