امریکا کا ایک بار پھر چین پر ایران کی ’فنڈنگ‘ کرنے کا الزام

امریکا کا ایک بار پھر چین پر ایران کی ’فنڈنگ‘ کرنے کا الزام

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک اہم بیان میں چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران سے بڑی مقدار میں تیل خرید رہا ہے، جس کے ذریعے ایران کو مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

 اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کی حالیہ کارروائیوں کے سبب آبنائے ہرمز بند ہوئی ہے، تاہم امریکہ اس بندش کو ختم کرنے کے لیے فعال اقدامات کر رہا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے قریب ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران پر اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے سفارتی سطح پر کردار ادا کرے تاکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد ملے۔ اس حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ چین کو چاہیے کہ وہ اپنی اقتصادی اور سفارتی طاقت استعمال کرے تاکہ اس اہم تجارتی راستے کو فعال رکھا جا سکے۔
ادھر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران مداخلت جاری رکھتا ہے تو امریکہ پھنسے ہوئے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اس معاملے میں سخت اقدامات کرے گا اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔دوسری جانب، چین اور روس نے اقوامِ متحدہ میں ایران کے خلاف پیش کی گئی قرار داد کی مخالفت کی ہے۔

 ان ممالک نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ قرار داد یکطرفہ مؤقف پر مبنی ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔ امریکہ پہلے ہی ایران پر سخت پابندیاں عائد کر چکا ہے، جن کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو محدود کرنا ہے، لیکن چین ان پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتا ہے اور ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے۔یاد رہے کہ آنے والے ہفتے میں امریکی صدر اور چینی صدر کے درمیان ملاقات متوقع ہے، جس میں عالمی سطح پر اہم امور خاص طور پر خطے کی صورتحال اور تجارتی معاملات پر بات چیت ہونے کا امکان ہے۔ اس ملاقات کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور عالمی اقتصادی استحکام برقرار رکھنا ہے، جب کہ ایران کے معاملے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔