واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات سے قبل ایک بار پھر امریکی انتخابی نظام پر سوالات اٹھاتے ہوئے انتخابی دھاندلی اور بیرونی مداخلت کے الزامات دہرائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو مزید محفوظ اور شفاف بنانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بعض خفیہ دستاویزات منظرِ عام پر لانے کا فیصلہ کیا ہے، جن کے مطابق چین نے مبینہ طور پر تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹرز کا ڈیٹا غیرقانونی طور پر حاصل کیا۔ تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی تفصیلی شواہد پیش نہیں کیے۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا کی چار ریاستوں میں ڈھائی لاکھ سے زائد ایسے افراد ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ ہیں جو امریکی شہری نہیں ہیں۔ انہوں نے 2020 کے صدارتی انتخابات سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ "چوری شدہ انتخابات" دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتے اور قانون سازوں پر زور دیا کہ ووٹنگ سے متعلق قوانین مزید سخت کیے جائیں۔اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے بعض امریکی ٹی وی نیٹ ورکس، جن میں ABC اور NBC شامل ہیں، کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان اداروں نے ان کا خطاب براہِ راست نشر نہیں کیا اور بغیر شواہد یہ دعویٰ بھی کیا کہ بعض میڈیا ادارے انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب انتخابی قوانین کے ماہرین اور ڈیموکریٹ رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے انتخابی قانون کے ماہر رک ہیسن کا کہنا ہے کہ صدر نے وہی پرانے دعوے دہرائے ہیں جن کی تائید میں اب تک کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا۔ڈیموکریٹ رہنماؤں کے مطابق ایسے بیانات کا مقصد نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے قبل عوامی اعتماد کو متاثر کرنا ہے۔ یاد رہے کہ 2020 کے صدارتی انتخابات کے بعد بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم متعدد عدالتی فیصلوں، ووٹوں کی دوبارہ گنتی، ریاستی آڈٹس اور امریکی محکمہ انصاف کی تحقیقات میں ایسے شواہد سامنے نہیں آئے تھے جن سے انتخابی نتائج تبدیل ہونے کا امکان ثابت ہوتا۔سیاسی مبصرین کے مطابق مڈٹرم انتخابات کے قریب آتے ہی انتخابی اصلاحات، ووٹر رجسٹریشن اور انتخابی شفافیت ایک بار پھر امریکی سیاست کے مرکزی موضوعات بن چکے ہیں۔