14 پیڈل کورٹس پر 50 کروڑ خرچ،فعال کرنیکافیصلہ نہ ہوسکا

پیڈل کورٹس کو خود چلایاجائے یا نجی شعبے کے حوالے، ایل ڈی اے فیصلہ نہ کرسکی
لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہور میں سپورٹس انفراسٹرکچر کو فروغ دینے کیلئے بنائے گئے پیڈل کورٹس انتظامی بے یقینی کاشکار ، شہر بھر میں ایل ڈی اے کے تحت 14 سے زائد مقامات پر یہ کورٹس تعمیر کیے گئے جن میں پارکس، پلے گرائونڈز، سپورٹس کمپلیکسز اور واٹر ٹینکس کی چھتیں بھی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق اس منصوبے پر ابتک 50 کروڑ سے زائد خرچ ہوچکے ہیں، گارڈن ٹاو ن ودیگرعلاقوں میں سہولیات مکمل ہیں تاہم ایل ڈی اے تاحال فیصلہ نہ کر سکی کہ پیڈل کورٹس کو خود آپریٹ کیا جائے یا نجی شعبے کو دیاجائے۔ سرکاری سطح پر چلانے کا کوئی ریکروٹمنٹ پلان سامنے آیا ، نہ ہی کوئی واضح انتظامی ڈھانچہ بن سکا۔ آو ٹ سورسنگ کے آپشن پر بھی پیشرفت نہ ہونے کے برابر ہے، اس حوالے سے کوئی پالیسی تشکیل دی گئی،نہ ہی فریم ورک ترتیب دیا جا سکا جبکہ شہریوں میں پیڈل کھیل باریدلچسپی میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ایل ڈی اے انتظامیہ کا مو قف ہے کہ پیڈل کورٹس کیلئے دونوں آپشنزسرکاری آپریشن اور آو ٹ سورسنگ زیر غور ہیں، حتمی فیصلہ گورننگ باڈی کریگی۔