راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ 30 ارب اضافی خرچ کے باوجود مکمل نہ ہوسکا

مسلسل تاخیر کے باعث راولپنڈی کی تاریخ کا میگا پراجیکٹ قومی خزانے پر بوجھ بننے لگا 
راولپنڈی (آن لائن) راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ 30 ارب روپے اضافی خرچ ہونے کے باوجود 5 سال میں بھی مکمل نہ ہوسکا مسلسل تاخیر کے باعث راولپنڈی کی تاریخ کا میگا پراجیکٹ مبینہ طور پر قومی خزانے پر بوجھ بننے لگا۔ ایف ڈبلیو او نے 6 لین پر مشتمل 38.3 کلومیٹر طویل رنگ روڈ کی تعمیر کا ٹھیکہ مارچ 2022 میں حاصل کیا تھا منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 22 ارب 82 کروڑ روپے تھا تاہم ذرائع کے مطابق مسلسل تاخیر سے اس منصوبے کی لاگت 53 ارب روپے سے تجاوز کرچکی ہے پنجاب حکومت رنگ روڈ منصوبے کی تکمیل کی متعدد ڈیڈ لائنز دینے کے ساتھ 2 مرتبہ افتتاح کی تیاریاں بھی کر چکی ہے تاہم آر ڈی اے ذرائع کے مطابق منصوبے پر 90 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے جو جلد عوام کیلئے کھول دیا جائے گا یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں سال جولائی میں رنگ روڈ منصوبے کے ڈیزائن میں مبینہ تبدیلی کی تحقیقات شروع کی گئی تھیں اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری احمد رضا سرور نے رنگ روڈ منصوبے کا مکمل ریکارڈ طلب کیا تھا جبکہ منصوبے کی این او سیز، منظور شدہ نقشوں، ایکسیس روڈز اور دیگر منظوریوں کا معاملہ عدالت تک بھی پہنچ چکا ہے ذرائع کے مطابق رنگ روڈ کے ڈیزائن میں تبدیلی کا معاملہ اس سے قبل 2022 میں تحریک انصاف کے دور حکومت سامنے آنے پر حکومت نے اس وقت کے کمشنر محمد محمود، ڈپٹی کمشنر انورالحق اور دیگر افسران کو تبدیل کر دیا تھا۔