جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی کی تباہ کاریاں

آپا منزہ جاوید
اسلام سچائی، دیانت اور عدل کا دین ہے۔ ایک مسلمان کی پہچان اس کے کردار، امانت اور زبان کی سچائی سے ہوتی ہے۔ جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا نہ صرف اخلاقی برائی ہے بلکہ یہ ایسا سنگین گناہ ہے جو فرد، خاندان اور پورے معاشرے کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ جھوٹ انسان کے اعتماد کو ختم کرتا ہے جبکہ جھوٹی گواہی ظلم، ناانصافی اور حقوق کی پامالی کا سبب بنتی ہے۔ اسی لیے قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں بار بار سچ بولنے کی تلقین اور جھوٹ سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔اسلام نے سچائی کو نجات اور کامیابی کا راستہ قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔’’ (سورہ التوبہ، آیت 119)
اس آیتِ مبارکہ میں واضح حکم دیا گیا ہے کہ مسلمان کی گفتگو، کردار اور معاملات سچائی پر مبنی ہونے چاہییں۔ سچائی انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے جبکہ جھوٹ انسان کو گناہوں اور تباہی کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔جھوٹ بولنا ایک ایسی بیماری ہے جو رفتہ رفتہ انسان کے کردار کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ابتدا میں انسان معمولی باتوں میں جھوٹ بولتا ہے لیکن پھر یہی عادت اس کی طبیعت کا حصہ بن جاتی ہے۔ نبی کریم  نے فرمایا:’’سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔‘‘(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ صرف زبان کا گناہ نہیں بلکہ یہ انسان کے پورے کردار اور انجام کو متاثر کرتا ہے۔ جھوٹا شخص رفتہ رفتہ لوگوں کے اعتماد سے محروم ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی ناپسندیدہ بن جاتا ہے۔اسی طرح جھوٹی گواہی اسلام میں نہایت سنگین جرم قرار دی گئی ہے۔ گواہی ایک عظیم امانت ہے کیونکہ اس کے ذریعے کسی کا حق ثابت ہوتا ہے یا کسی پر جرم عائد کیا جاتا ہے۔ اگر گواہی جھوٹی ہو تو انصاف کا پورا نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’پس تم بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔‘‘(سورہ الحج، آیت 30)
مفسرین کے مطابق ‘‘قولِ زور’’ میں جھوٹ، بہتان اور جھوٹی گواہی سب شامل ہیں۔ اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے جھوٹی بات کو سختی سے منع فرمایا ہے، جو اس گناہ کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور گواہی کو نہ چھپاؤ، اور جو اسے چھپائے گا تو بے شک اْس کا دل گناہگار ہے۔‘‘ (سورہ البقرہ، آیت 283)
اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف جھوٹی گواہی دینا ہی نہیں بلکہ سچی گواہی کو چھپانا بھی گناہ ہے۔ اسلام عدل و انصاف کا ایسا نظام قائم کرنا چاہتا ہے جہاں حق بات بغیر خوف اور لالچ کے کہی جائے۔اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:’’اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دو اگرچہ وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘(سورہ النساء￿ ، آیت 135)
یہ آیتِ مبارکہ عدل و انصاف کی عظیم بنیاد پیش کرتی ہے۔ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ حق بات کہنے میں رشتہ داری، دوستی، دشمنی یا ذاتی مفاد رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ سچا مسلمان وہی ہے جو ہر حال میں انصاف کا ساتھ دے۔
نبی کریم  نے جھوٹی گواہی کو کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا۔ حضرت ابو بکر صدیق روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  نے فرمایا:
‘‘کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ !’
آپ  نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی۔‘‘پھر آپ  سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور بار بار فرمانے لگے:
 ‘‘خبردار! جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی سے بچو۔’’ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ  نے یہ جملہ اتنی بار دہرایا کہ صحابہ کو محسوس ہوا کہ شاید آپ  اسی پر مسلسل فرماتے رہیں گے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جھوٹی گواہی انسانوں کے حقوق کو تباہ کرنے والا بہت بڑا جرم ہے۔اسلام صرف زبان کی سچائی کا حکم نہیں دیتا بلکہ نیت، کردار اور معاملات میں بھی سچائی چاہتا ہے۔ نبی کریم  نے فرمایا:’’منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔‘‘(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ جھوٹ ایمان کے نور کو کمزور کرتا ہے اور انسان کے باطن کو خراب کر دیتا ہے۔بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں جھوٹ اور جھوٹی گواہی عام ہوتی جا رہی ہے۔ بعض لوگ معمولی فائدے، دولت، دشمنی یا تعلق داری کی وجہ سے عدالتوں میں جھوٹی گواہی دیتے ہیں۔ کچھ لوگ دوسروں کو پھنسانے کے لیے جھوٹے مقدمات بناتے ہیں جبکہ بعض لوگ دباؤ یا لالچ کی وجہ سے حق بات چھپا لیتے ہیں۔ یہ تمام اعمال معاشرے میں ظلم، نفرت اور بے اعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔جھوٹی گواہی کے معاشرتی نقصانات بے شمار ہیں۔ اس سے بے گناہ سزا پاتے ہیں، مجرم آزاد ہو جاتے ہیں، مظلوم انصاف سے محروم رہتے ہیں اور لوگوں کا عدالتوں اور انصاف کے نظام پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ جب معاشرے میں جھوٹ عام ہو جائے تو محبت، اعتماد اور امن ختم ہونے لگتا ہے۔ خاندان ٹوٹتے ہیں، دشمنیاں بڑھتی ہیں اور دلوں میں نفرت جنم لیتی ہے۔آج سوشل میڈیا کے دور میں بھی جھوٹ کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے۔ بغیر تحقیق کے خبریں پھیلانا، کسی پر جھوٹا الزام لگانا، کردار کشی کرنا اور افواہیں پھیلانا بھی جھوٹ اور بہتان میں شامل ہے۔ بعض لوگ شہرت یا وقتی فائدے کے لیے غلط خبریں پھیلاتے ہیں، حالانکہ اسلام تحقیق اور سچائی کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو۔’’ (سورہ الحجرات، آیت 6)
اس لیے مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر خبر کی تصدیق کرے اور کسی کے بارے میں غلط بات آگے نہ پھیلائے۔جھوٹ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے دل میں خوفِ خدا پیدا کرے۔ جب انسان کو یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر بات سن رہا ہے اور قیامت کے دن زبان، ہاتھ اور قدم سب گواہی دیں گے تو وہ جھوٹ بولنے سے ڈرے گا۔ والدین اور اساتذہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی تربیت سچائی 
پر کریں۔ اگر بچپن سے سچ بولنے کی عادت پیدا کی جائے تو ایک دیانت دار معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبانوں کی حفاظت کریں، سچ بولنے کی عادت اپنائیں اور ہر حال میں حق بات کہیں۔ وقتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولنا دراصل دنیا و آخرت دونوں کا نقصان ہے۔ سچائی اگرچہ بعض اوقات مشکل محسوس ہوتی ہے مگر اس کا انجام عزت، سکون اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا اسلام میں نہایت سنگین گناہ ہیں۔ قرآن و سنت کی تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ ایک صالح معاشرہ صرف سچائی، انصاف اور دیانت داری کی بنیاد پر قائم ہو سکتا ہے۔ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہر حال میں حق کا ساتھ دے، سچی گواہی دے اور خوفِ خدا کے ساتھ اپنی زبان اور کردار کی حفاظت کرے۔ اگر ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں سچائی کو اختیار کر لیں تو معاشرے میں انصاف، اعتماد اور امن دوبارہ قائم ہو سکتا ہے۔