جب خاموشی بولنے لگے

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
امریکااس سہ فریقی کھیل میں بھارت کو ایک مہرے کے طورپردیکھتاہے،مگرتاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے کھیل میں مہرے اکثرخودکوبادشاہ سمجھنے لگتے ہیںاوریہی غلط فہمی بڑے سانحات کوجنم دیتی ہے۔اصل طاقت صرف ہتھیارنہیں ہوتے؛اصل طاقت یہ ہوتی ہے کہ ملک معاشی طورپرمضبوط ہو،سفارتی طورپرمتوازن ہواورعسکری طورپرہوشیار۔
اطلاعات کے مطابق پی ایل17کم ازکم گزشتہ ایک دہائی سے تیاری کے مختلف مراحل سے گزر رہاہے،مگراس کے باوجودسرکاری سطح پراس کے بارے میں معلومات نہایت محدود رکھی گئی ہیں۔ نہ یہ میزائل کسی عظیم الشان فوجی پریڈکی زینت بنا،نہ کسی مشق کی ویڈیوزمیں نمایاں ہوا،البتہ 2016کے بعدسے چند دور بین نگاہوں نے اسے جے16لڑاکا طیارے پرنصب حالت میں دیکھ لیا۔یورپی دفاعی تجزیہ کارنسبتاًکم شورمچاتے ہوئے،مگرگہری نگاہ سے اس پیش رفت کودیکھ رہے ہیں۔ان کے نزدیک پی ایل17اس بات کی علامت ہے کہ چین اب صرف علاقائی طاقت نہیں رہابلکہ عالمی عسکری معیارمتعین کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کررہاہے اور یہی بات یورپ کیلئے طویل المدت تشویش کاباعث ہے۔
اگرپاکستان نے دانش مندی سے اس بدلتے توازن کوپڑھ لیا،تووہ محض ردِعمل دینے والی ریاست نہیں رہے گابلکہ خطے میں استحکام کی آوازبن سکتاہے اوراگر یہ موقع ضائع ہواتو طاقتوروں کی کشمکش میں کمزورکی حیثیت ہمیشہ تاریخ کاتلخ باب رہی ہے۔اگرپاکستان نے دانش مندی سے فیصلے کیے توبدلتی دنیامیں وہ کمزور نہیں بلکہ ایک ذمہ داراورمؤثرریاست کے طورپرابھرسکتاہے۔فضائی دفاعی نظام اورالیکٹرانک وارفیئرمیں سرمایہ کاری،چین کے ساتھ دفاعی تعاون میں ٹیکنالوجی ٹرانسفرپرزور،امریکااوردیگرعالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن سفارتی روابط،خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کردارکوفعال بنانانہ مصرف وقت کاتقاضہ بلکہ انتہائی اہم ہے۔چین،اس کے برعکس،براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے طاقت کو(بازدارقوت)ڈیٹرنس کے طورپراستعمال کررہاہے۔پی ایل17 جیسے میزائل اسی فلسفے کی توسیع ہیں،لڑنے کیلئے نہیں، بلکہ لڑائی سے روکنے کیلئے ہیں۔
انہی محدودتصاویرکی بنیادپرایک امریکی عسکری تجزیاتی ویب سائٹ نے اندازہ لگایاہے کہ پی ایل17کی لمبائی چھ میٹر(تقریبابیس فٹ)سے زیادہ ہوسکتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک ریڈارگائیڈڈطویل فاصلے تک مارکرنے والامیزائل ہے،جس کی رینج ممکنہ طورپرچارسوکلومیٹرسے تجاوزکرسکتی ہے اوریہی عددعالمی عسکری حلقوں میں تشویش کاباعث بن رہی ہے۔جہاں تک بھارت کا تعلق ہے،وہاں پی ایل17کومحض ایک دورافتادہ بحرالکاہلی مسئلہ نہیں سمجھاجارہا۔بھارتی اسٹریٹیجک حلقے اسے براہِ راست سینوانڈین طاقت کے توازن سے جوڑکردیکھتے ہیں،خاص طورپراس پس منظرمیں کہ چین اوربھارت کے درمیان سرحدی تناپہلے ہی ایک مستقل حقیقت بن چکاہے۔
یوں پاکستان کیلئے پی ایل17جیسے ہتھیاروں کی معنویت میزائل کی رینج سے زیادہ،سیاسی بصیرت کی وسعت میں مضمرہے کہ طاقت کوکیسے دیکھاجائے، کیسے سمجھاجائے،اورکیسے متوازن رکھاجائے۔اس سہ فریقی طاقت کے توازن میں پاکستان ایک خاموش مگراہم عامل ہے۔اس کی جغرافیائی حیثیت،چین کے ساتھ قربت،اوربھارت کے ساتھ تاریخی تناسب اسے ایک ایسے مقام پرلاکھڑا کرتے ہیں جہاں ایک غلط قدم خطے کوعدم استحکام کی طرف دھکیل سکتاہے۔
پاکستان کیلئے اصل چیلنج کسی ایک ہتھیاریاملک کانہیں،بلکہ بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کوبروقت سمجھنے اوراس کے مطابق خودکو ڈھالنے کاہے۔قومی سلامتی کاتقاضا یہی ہے کہ طاقت، حکمت اورمعاشی استحکام کوایک ہی حکمتِ عملی میں سمویاجائے۔اگردانش مندی غالب رہی تویہی سہ فریقی توازن جنوبی ایشیاکوایک نئی سرد جنگ سے بچاسکتاہے۔اوراگرغرور،خوف یاغلط اندازے غالب آئے،توتاریخ ایک بارپھریہی کہے گی کہ طاقت نے عقل پرسبقت لے لی۔اس کے مقابلے میں اس وقت امریکی فضائیہ کے زیرِاستعمال سب سے زیادہ رینج رکھنے والافضاسے فضامیں مارکرنے والامیزائل اے آئی ایم 120ڈی ہے جس کی زیادہ سے زیادہ رینج تقریبا160کلومیٹربتائی جاتی ہے۔یہ تقابل خوداپنی زبان میں بہت کچھ کہہ دیتاہے۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچین پی ایل17جیسے طویل فاصلے کے میزائلوں کواپنے مغربی تھیٹرمیں مثرطریقے سے تعینات کردیتاہے توبھارتی فضائیہ کی آپریشنل آزادی محدودہوسکتی ہے خصوصاًان طیاروں کیلئے جوری فیولنگ یافضائی نگرانی پر انحصارکرتے ہیں۔پینٹاگون کی جانب سے دسمبرمیں کانگریس کوپیش کی گئی چین کی فوجی طاقت سے متعلق سالانہ رپورٹ میں اس پہلوکی صراحت کی گئی ہے کہ پی ایل17سے لیس جے16لڑاکاطیارے کی حملہ آورصلاحیت1400کلومیٹرسے زائدہوسکتی ہے یعنی خطرہ محض میزائل تک محدودنہیں بلکہ پورے فضائی نظام تک پھیلاہواہے۔اسی تناظرمیں بھارت میں اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں،میزائل ٹیکنالوجی اورشراکت داروں کے انتخاب پرازسرِ نو غورکی آوازیں بلند ہورہی ہیں ۔امریکا،فرانس اوراسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کومحض ہتھیاروں کی خریدنہیں بلکہ ٹیکنالوجیکل توازن کے ایک ذریعہ کے طورپردیکھاجارہاہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پی ایل17کے سیکرسسٹم میں جدیداے ای ایس اے ریڈارشامل ہوسکتاہے،جوپہلے ہی پی ایل15میزائل میں استعمال ہوچکاہے ۔پی ایل15کو 2015 میں عملی سروس میں شامل کیاگیاتھااوراس کی رینج200کلومیٹرسے زائدبتائی جاتی ہییوں پی ایل17اس ارتقائی سلسلے کی اگلی اور کہیں زیادہ خطرناک کڑی معلوم ہوتاہے۔ بین الاقوامی طاقت کے توازن کے وسیع تر منظرنامے میں پی ایل17ایک واضح اشارہ ہے کہ دنیااب ایک بارپھر ملٹی پولرعسکری نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔وہ دور،جب ایک یا دو طاقتیں فضاں پربلاشرکتِ غیرے حاکم تھیں،آہستہ آہستہ تاریخ کے اوراق میں سمٹتا دکھائی دیتاہے۔
چینی میڈیاکے مطابق پی ایل17کی تصویرپہلی مرتبہ2016میں منظرِعام پرآئی تھی،جب اسے جے16لڑاکاطیارے پرآزمائشی مراحل کے دوران دیکھا گیا۔جے16چین کاطاقتورترین ہیوی ملٹی رول فائٹرجیٹ ہے اوراب تک یہی واحدطیارہ ہے جس پرپی ایل17 کی تنصیب کی تصدیق ہوئی ہے گویایہ ہتھیاراوریہ طیارہ ایک دوسرے کیلئے ہی تراشے گئے ہوں۔عسکری تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ طاقت کا توازن ہمیشہ ہتھیاروں سے نہیں،بلکہ ان ہتھیاروں کے تصورسے بدلتاہے۔پی ایل17شایدابھی پوری طرح عملی صورت میں سامنے نہ آیاہو،مگراس کاتصورہی اتحادی منصوبہ بندی،فضائی مشقوں اوردفاعی بجٹ کی سمت متعین کرنے لگاہے۔
چین کے نقط نظرسے دیکھاجائے توپی ایل17نہ جارحیت کااعلان ہے،نہ جنگ کی دعوت؛بلکہ یہ اس فلسفے کی توسیع ہے جس میں کہاجاتاہے’’ایسی طاقت حاصل کروکہ جنگ کی نوبت ہی نہ آئے‘‘۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں عسکری طاقت سفارت کاری کی زبان بولنے لگتی ہے۔یوں پی ایل17کو اگرمحض ایک میزائل سمجھاجائے تویہ اس کے اثرات کوکم کرکے دیکھنے کے مترادف ہوگا۔درحقیقت یہ ایک علامت ہے اس علامت کی کہ عالمی طاقت کامرکزبتدریج حرکت میں ہے،اورفضائیں بھی اب اسی حرکت کی گواہ بن رہی ہیں۔
اگرعسکری تاریخ ہمیں کچھ سکھاتی ہے تووہ یہ کہ خاموش تیاری سب سے بلنداعلان ہوتی ہے۔پی ایل17بھی شایداسی خاموشی کانام ہے ،ایک ایسانام جو ابھی پوری طرح پکارانہیں گیا،مگرجس کی بازگشت بحرالکاہل کے افق پرسنائی دینے لگی ہے۔طاقت جب حکمت سے خالی ہوتوفتنہ بن جاتی ہے،اورحکمت جب طاقت سے عاری ہوتودعارہ جاتی ہے۔آج کی دنیاکودونوں درکارہیںاورپاکستان کوان دونوں کے بیچ اپناراستہ خودتراشناہے۔طاقت کازمانہ شورسے نہیں، توازن سے پہچاناجاتاہے۔جوقوم توازن سمجھ لیتی ہے،وہی تاریخ میں اپنامقام محفوظ رکھتی ہے۔یہ تحریرخبرنہیں،بلکہ تاریخ کے حاشیے پرلکھی جانے والی وہ سطرہے جسے وقت آہستہ آہستہ نمایاں کرتا ہے۔پی ایل17شایدآج ایک مبہم سایہ ہے، مگرطاقت کی تاریخ میں سائے اکثرآنے والے طوفانوں کی خبر دیتے ہیں۔