لاہور (یاسین ملک)پیپلز سیکرٹریٹ ماڈل ٹاوٓن میں پی پی لاہور ایگزیکٹو ز کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ، لاہور ایگزیکٹوز نے سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نیئر حسین بخاری کے سامنے شکایات کے انبار لگا دئیے۔رہنما چودھری ریاض نے کہالاہور کے چاروں ضلعی صدور کے پاس کوئی پارٹی آفس نہیں نہ انکی کوئی کاکردگی ہے اور نہ ہی کوئی فائل ورک ہے۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی لاہور کی تنظیم سازی مکمل نہ ہونے کا نیئر بخاری کو ہی ذمہ دارقرار دے دیا گیا ،ضلعی صدر زاہد ذوالفقار نے کہا آپ بڑے ہیں لاہور کی صدارت کا عہدہ سال سے خالی ہے، تنظیم غیر فعال ، اسکے آپ ذمہ دار ہیں ، نیئر بخاری نے کہا یہ ذمہ داری صدروسطی پنجاب پرویزاشرف کی ہے ، انہیں لاہورکے تنظیمی ایشوز پر ایکشن لینا چاہئے تھا ،پارٹی کی بہتری کیلئے وسطی پنجاب کا صدر لاہور سے ہونا چاہیے ، جب تک آصف زرداری اور بلاول بھٹو اکٹھے نہیں بیٹھیں گے اس وقت تک پیپلزپارٹی لاہور کے صدر کا فیصلہ نہیں ہو سکتا ،اگلے ہفتے دونوں بڑے اکٹھے ہونگے اس میں، لاہور کے صدر کی فیصلہ ہونے کا امکان ہے ،نیئر بخاری نے پوچھا پارٹی قوانین کا کس کس کو علم ہے تو سب خاموش ہوئیجس پر نیئر بخاری نے آفس انچارج نسیم صابر کو بلا کر لاہور ایگزیکٹوز کو پارٹی قوانین کی کاپی دینے کی ہدایت کی اورکہا سب انہیں پڑھیں تاکہ سب کو پارٹی ڈسپلن کا علم ہو۔ اجلاس میں رہنمائوں کے تاخیر سے آنے پر نیئر بخاری سیخ پا ہو گئے اورکہا تاخیر سے کیوں آرہے ہو کیا آپ کو وقت کا علم نہیں تھا،جنرل سیکرٹری پیپلزپارٹی لاہور جمیل منج نے کہا تنظیم سازی نچلی سطح تک ہونی چاہیے جومکمل کئے بغیر پارٹی کامیابی نہیں ہو سکتی۔