مالی فائدے کے لیے متعلقہ افسران نے ملی بھگت کی، 48فیصد مالی اور صرف 30 فیصد عملی پیشرفت ہوئی
غیر معیاری ٹف ٹائلز، زنگ آلود سریا اور ناقص میٹریل استعمال کیا گیا،محکمہ منصوبہ بندی وترقی کی رپورٹ
پشاور (آ ئی این پی )پشاور بس ٹرمینل منصوبے سے متعلق ناقص تعمیرات اور جعلی بینک گارنٹی کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ انکشاف محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کی رپورٹ میں ہواہے ۔رپورٹ کے مطابق بس ٹرمینل منصوبہ تاخیر کا شکار ہے جس میں ناقص تعمیرات اور جعلی بینک گارنٹی کا انکشاف ہوا ہے، منصوبے میں کنٹریکٹر نے جعلی پرفارمنس بینک گارنٹی جمع کروائی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ منصوبے میں مالی فائدے کے لیے متعلقہ افسران نے ملی بھگت کی، 48فیصد مالی اور صرف 30 فیصد عملی پیشرفت ہوئی، غیر معیاری ٹف ٹائلز، زنگ آلود سریا اور ناقص میٹریل استعمال کیا گیا۔ ماحولیاتی تحفظ اور دیگر پیشگی لوازمات کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔ کنٹریکٹرز کو منصوبے میں دانستہ تاخیر کا ذمیدار قرار دیا گیا۔رپورٹ میں ڈیزائن میں بہتری اور ناقص کام کی ازسرنو تعمیر کی سفارش جبکہ ملوث افسران کے خلاف کارروائی اور جرمانے عائد کرنے کی ہدایت کی گئی۔قومی احتساب بیورونے پی ڈی اے افسران اور کمپنیوں کے خلاف انکوائری سے متعلق سیکرٹری بلدیات کو آگاہ کر دیا۔