ایران کا آبنائے ہرمز بند رکھنے کا فیصلہ برقرار، جہازوں کو نشانہ بنانے کا انتباہ

ایران کا آبنائے ہرمز بند رکھنے کا فیصلہ برقرار، جہازوں کو نشانہ بنانے کا انتباہ

ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اس اہم سمندری گزرگاہ سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار ہے اور کویت کے قریب ایک آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ موجودہ صورتحال کے باعث اس آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آمد و رفت تقریباً 10 فیصد تک محدود ہو گئی ہے۔

ایران کی فوجی ہدایات:
پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ابراہیم جباری نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ:امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں ایران اس اہم راستے کو بند رکھے گا۔کسی جہاز کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔خطے سے تیل کی ترسیل نہ ہو اور ایک قطرہ بھی باہر نہ جا سکے۔اس علاقے سے گزرنے والی تیل کی پائپ لائنیں بھی نشانے پر آ سکتی ہیں۔
عالمی اثرات:
آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ پر واضح ہو رہے ہیں:

برطانوی خام تیل تقریباً 3٪ اضافے کے بعد 83.78 ڈالر فی بیرل
امریکی خام تیل 3.34٪ اضافے کے ساتھ 77 ڈالر فی بیرل
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو اس کے عالمی توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔