تہران: ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں دو امریکی بحری جہازوں اور آٹھ تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے اس حصے میں کی گئی جسے ایران نے ’’ممنوع اور غیر محفوظ‘‘ قرار دے رکھا ہے۔ایرانی دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس سے قبل امریکی فوج نے ایران کے پانچ تیل بردار ٹینکروں کو تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر
رپورٹس کے مطابق بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بھی معمول سے کم ہوگئی ہے۔ منگل کے روز صرف چھ تجارتی جہاز اس اہم سمندری راستے سے گزرے، جبکہ گزشتہ 10 روز کی اوسط تقریباً 12 جہاز روزانہ رہی ہے۔ایران کی جانب سے امریکی اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا تازہ دعویٰ خطے میں جاری فوجی کشیدگی میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے جن جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، انہیں پہنچنے والے نقصان یا ممکنہ جانی نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔
عالمی تیل کی سپلائی پر خدشات
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں کسی بھی قسم کی طویل بندش یا بحری آمدورفت میں بڑی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈی پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت متاثر ہوئی تو عالمی تیل کی سپلائی، خام تیل کی قیمتوں اور شپنگ لاگت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔تازہ پیش رفت نے خطے میں کسی بڑے عسکری تصادم کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں، جبکہ عالمی منڈیاں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور آئندہ ہونے والی ممکنہ کارروائیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔