جویریہ سعود کو رمضان ٹرانسمیشن کے دوران رونے پر شدید تنقید کا سامنا

جویریہ سعود کو رمضان ٹرانسمیشن کے دوران رونے پر شدید تنقید کا سامنا

پاکستان میں رمضان المبارک کے دوران مختلف ٹی وی چینلز پر خصوصی نشریات کا انعقاد ایک روایت بن چکا ہے، جہاں ناظرین کو مذہبی تعلیمات، نعت خوانی، اور اسلامی معلومات پر مبنی پروگرامز پیش کیے جاتے ہیں۔

 تاہم، ان پروگرامز میں ریٹنگز اور ویوز بڑھانے کے لیے بعض اوقات غیر ضروری جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

لائیو شو کے دوران نعت خوانی میں جذباتی مناظر
اس سال بھی کئی چینلز پر مختلف مشہور شخصیات رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کر رہی ہیں۔ انہی میں سے ایک اداکارہ جویریہ سعود بھی شامل ہیں، جو اپنے مخصوص انداز کی اداکاری اور میزبانی کے لیے جانی جاتی ہیں۔ حال ہی میں، ان کے رمضان شو کے ایک لمحے نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا، جب وہ لائیو نعت خوانی کے دوران زار و قطار رو پڑیں۔ان کے رونے کی ویڈیوز اور کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے، جس کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی صارفین نے ان پر "اوور ایکٹنگ" کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب محض ریٹنگز بڑھانے کا ایک ہتھکنڈہ ہے، جس سے رمضان ٹرانسمیشن کی اصل روح متاثر ہو رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر ناظرین نے ملا جلا ردعمل دیا، تاہم اکثریت نے جویریہ سعود کے رویے کو غیر ضروری قرار دیا۔ایک صارف نے تبصرہ کیا: "یہ سب ڈرامہ ریٹنگز کے لیے ہے، عبادت میں ریاکاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔"دوسرے صارف نے لکھا: "اگر عبادت ہی کرنی ہے تو گھر میں کریں، کیمرے کے سامنے جذباتی ہونے کی کیا ضرورت ہے؟"جبکہ کچھ صارفین نے ان کا دفاع بھی کیا اور کہا کہ "ہو سکتا ہے ان کے جذبات سچے ہوں، کسی کے ایمان پر شک نہیں کرنا چاہیے۔"
رمضان ٹرانسمیشنز اور ریٹنگز کا مسئلہ
پاکستان میں رمضان المبارک کے دوران ٹی وی نشریات کا ایک مخصوص رجحان دیکھا جاتا ہے، جہاں معروف شخصیات کو میزبان بنایا جاتا ہے اور بعض اوقات ریٹنگز کے لیے غیر ضروری جذباتی مناظر یا متنازعہ گفتگو شامل کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناظرین کی ایک بڑی تعداد اب ان رمضان ٹرانسمیشنز پر اعتماد نہیں کرتی اور انہیں زیادہ تر ڈرامہ اور ریٹنگز کا کھیل قرار دیتی ہے۔

نتیجہ
جویریہ سعود کی نعت خوانی کے دوران رونے کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ لوگ اسے ان کی حقیقی عقیدت سمجھ رہے ہیں، جبکہ زیادہ تر صارفین کا خیال ہے کہ یہ سب محض کیمرے کے لیے کیا گیا ایک ڈرامہ تھا۔ رمضان ٹرانسمیشنز کی بڑھتی ہوئی تجارتی نوعیت اور ریٹنگز کے لیے کیے جانے والے جذباتی مناظر پر عوام کی تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔