پاکستان میں معاشی اشاریوں میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو حکومتی اور مالیاتی حکام نے ملک کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مختلف شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جس سے مجموعی معاشی سرگرمیوں میں استحکام کا رجحان ظاہر ہو رہا ہے۔سرکاری رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مجموعی قومی معیشت کا حجم بڑھ کر 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ صنعتی شعبے میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے، جہاں بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) کی پیداوار میں 6.5 فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے، جو صنعتی سرگرمیوں میں بحالی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔مالیاتی نظم و ضبط کے حوالے سے حکومتی دعویٰ ہے کہ مالی خسارہ کم ہو کر 0.7 فیصد کی سطح تک آ گیا ہے، جبکہ بجٹ میں بہتری کے باعث حکومت نے تقریباً 4 ٹریلین روپے کا قرض مقررہ وقت سے پہلے واپس کیا ہے، جسے مالیاتی استحکام کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے، جو بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے چار سال بعد بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ رسائی حاصل کرتے ہوئے 500 ملین ڈالر کا یورو بانڈ کامیابی سے جاری کیا، جسے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کاروباری شعبے میں اصلاحات کے تحت سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے مطابق 2 لاکھ 97 ہزار سے زائد کمپنیوں کی رجسٹریشن مکمل کی گئی ہے، جو ملک میں کاروباری سرگرمیوں اور نجی شعبے کی توسیع کی نشاندہی کرتی ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحانات برقرار رہے تو پاکستان کی معیشت مزید استحکام کی جانب جا سکتی ہے، تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ پائیدار ترقی کے لیے مہنگائی میں کمی، برآمدات میں اضافہ اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔مجموعی طور پر حکومتی حلقے ان پیش رفتوں کو معیشت میں بہتری، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور ترقی کے نئے مرحلے کی شروعات قرار دے رہے ہیں، جبکہ تجزیہ کار اسے محتاط مگر مثبت معاشی سمت سے تعبیر کر رہے ہیں۔