پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کی تعیناتی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق شہری اسامہ ریاض نے اپنے وکیل ریاض حنیف راہی کے ذریعے یہ آئینی درخواست دائر کی، جسے ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے وصول کرکے باقاعدہ ڈائری نمبر بھی جاری کر دیا ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جج ناصر جاوید رانا کی تعیناتی سپریم کورٹ کے 19 اکتوبر 2004ء کے فیصلے کے منافی ہے، لہٰذا عدالت اس تعیناتی کو کالعدم قرار دے۔ درخواست گزار نے مزید استدعا کی کہ جب تک کیس کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، جج ناصر جاوید رانا کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکا جائے۔درخواست میں عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ناصر جاوید رانا ریٹائر ہو چکے ہیں تو ان کی 14 دسمبر 2022ء کے بعد حاصل کی گئی تمام مراعات اور واجبات واپس لیے جائیں، اور انہیں پنشن یا دیگر ریٹائرمنٹ بینیفٹس کا حق دار نہ ٹھہرایا جائے۔
یاد رہے کہ جج ناصر جاوید رانا نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ کے مبینہ غیر قانونی اثاثہ جات ریفرنس میں قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی، جو بعد ازاں ملکی سیاست اور عدلیہ کے دائرے میں ایک بڑا تنازعہ بن گئی تھی۔فی الحال درخواست پر ابتدائی سماعت کا شیڈول طے نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ جلد مقدمہ سماعت کے لیے مقرر کر سکتی ہے۔اس وقت ناصر جاوید رانا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ویسٹ اسلام آباد کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔