وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی را اور 'فتنۃ الہندوستان' کے خلاف دو ٹوک پریس کانفرنس

 وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی را اور 'فتنۃ الہندوستان' کے خلاف دو ٹوک پریس کانفرنس

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را" اور اس کے حمایت یافتہ گروہ "فتنۃ الہندوستان" کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بلوچوں یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ خالصتاً دہشتگرد ہیں جو ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ بھارت بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے پراکسی وار کے ذریعے دہشتگرد گروہوں کی مالی و تکنیکی معاونت کر رہا ہے تاکہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت اور داخلی استحکام کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے ناپاک عزائم میں ناکام ہو چکا ہے اور ریاست کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔پریس کانفرنس میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقی ظہور احمد بلیدی اور چیف سیکریٹری بلوچستان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر بھارتی میڈیا کی جھوٹی اور گمراہ کن رپورٹس، خاص طور پر کراچی پورٹ سے متعلق جھوٹی خبریں دکھائی گئیں۔ اس کے علاوہ فتنۃ الہندوستان کے اہم کارندے شنبے اور رحمان گل کی آڈیوز بھی میڈیا کو سنوائی گئیں، جن میں بھارتی ایجنسی را کے ہینڈلرز کے ساتھ رابطے اور معلومات کے تبادلے کی تفصیلات شامل تھیں۔سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ خضدار میں معصوم بچوں کو شہید کرنے والے درندہ صفت دہشتگرد را کی ہدایات پر کام کر رہے ہیں اور ان کا بلوچ قوم سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کسی پنجابی یا کسی مخصوص قوم کو نہیں بلکہ پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اس لیے ان کی شناخت محض دہشتگرد کی ہے، قوم پرست کی نہیں۔

وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ بلوچ قوم اپنی روایات، اقدار اور امن پسندی کے لیے جانی جاتی ہے، اور ان دہشتگرد عناصر کو قوم سے جوڑنا سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے لاپتا افراد کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا بیانیہ ایک پراپیگنڈا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ بڑی تعداد میں افراد از خود روپوش ہوئے ہیں، جن کی فہرستیں دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے پاس ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں فی الوقت کسی بڑے ملٹری آپریشن کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ریاستی پالیسی سیاسی مذاکرات اور موثر حکمت عملی پر مبنی ہے۔ تاہم، جو عناصر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے، ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ضرور کی جائے گی۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ "ریاست فتنۃ الہندوستان کے ہر حملے کو ناکام بنائے گی اور پاکستان کے امن و ترقی کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔"یہ پریس کانفرنس ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب بلوچستان میں حالیہ دنوں دہشتگردی کی وارداتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور ریاستی ادارے ان کے پیچھے بھارتی مداخلت کے ناقابل تردید شواہد پیش کر رہے ہیں۔