چترال: نوجوان ویڈیو بلاگر ثنا یوسف کے قتل پر اہل خانہ اور علاقے میں غم و غصہ کی لہر

چترال: نوجوان ویڈیو بلاگر ثنا یوسف کے قتل پر اہل خانہ اور علاقے میں غم و غصہ کی لہر

چترال میں نوجوان ویڈیو بلاگر ثنا یوسف کے قتل نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ثنا یوسف کی موت پر اس کے چچا کوثر علی شاہ نے گہرے غم اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عید کے بعد گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے گاؤں آ رہی تھی، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور وہ تابوت میں واپس آئی۔

ثنا یوسف کے چچا کوثر علی شاہ کے تاثرات:
ثنا ہر سال اپنے والدین کے ساتھ چترال آتی تھی تاکہ گرمیوں کی چھٹیاں اپنے گاؤں میں گزارے، اس سال بھی وہ عید کے بعد آنے کا ارادہ رکھتی تھی۔اس کے پلانز میں اپنے علاقے کے خوبصورت مقامات پر جا کر ویڈیو بنانا اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شامل تھا۔ان کی اچانک موت نے خاندان اور پورے چترال میں سوگ کی فضا قائم کر دی ہے۔ثنا ایک ملنسار اور ہنس مکھ لڑکی تھی، جس کی خواہش تھی کہ وہ انٹرپرینیور بن کر اپنے علاقے کے لوگوں کو خود مختار بنائے۔اس کا خواب تھا کہ گاؤں کی خواتین کو ڈیجیٹل میڈیا میں تربیت دے تاکہ وہ خود کفیل اور بااختیار بن سکیں، لیکن اس خواب کو پورا ہونے کا موقع نہ ملا۔خاندان اور پورے علاقے کو فخر ہے کہ ثنا نے اپنی عزت کا تحفظ کیا اور قاتل کی دھمکیوں کے باوجود اس کی بات نہیں مانی۔ثنا نے والدین کی اجازت اور تعاون سے سوشل میڈیا کی دنیا میں قدم رکھا تھا اور تعلیم و غیر نصابی سرگرمیوں میں نمایاں رہی۔وہ ایف ایس سی فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی اور اپنی مسکراہٹ اور باتوں سے سب کو خوش رکھتی تھی۔
علاقے میں افسردگی:
ثنا کی موت پر پورے چترال میں غم کی لہر ہے، بچے، بوڑھے، خواتین سب اس کی یاد میں رو رہے ہیں۔اہل علاقہ اور خاندان والے اس دردناک واقعے سے صدمے میں ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنی باتوں سے سب کو ہنسانے والی لڑکی نے اپنے پیچھے غم و رنج چھوڑ دیا ہے۔