وینزویلا بحران اور امریکی پابندیوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافے کا امکان

وینزویلا بحران اور امریکی پابندیوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافے کا امکان

عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ وینزویلا کی تازہ سیاسی و عسکری صورتحال اور اس پر عائد امریکی پابندیاں قرار دی جا رہی ہیں۔

 توانائی کے ماہرین کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافے نے عالمی تیل منڈی کو ایک بار پھر غیریقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے والے ملک وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد واشنگٹن کی جانب سے اس ملک پر کنٹرول سنبھالنے کے اشارے سامنے آئے ہیں، جس کا عندیہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیانات میں دے چکے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا پر امریکی کارروائی وال اسٹریٹ اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید ردعمل کو جنم دے سکتی ہے، کیونکہ جیو پولیٹیکل تناؤ کے دوران سرمایہ کار عموماً سونے جیسے محفوظ اثاثوں کی جانب رخ کرتے ہیں۔نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا نے وینزویلا پر زمینی حملہ کرکے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے بعد وینزویلا اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر کے مستقبل پر غیریقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی منڈی میں اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی فراہمی نسبتاً زیادہ ہے، تاہم وینزویلا کی برآمدات میں مزید رکاوٹیں قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہیں۔ امریکی پابندیوں کے باعث وینزویلا کی تیل برآمدات جنوری کے آغاز سے مکمل طور پر بند ہیں، جس کے نتیجے میں ریاستی آئل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کو تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی کرنا پڑ رہی ہے، کیونکہ ملک میں ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور لاکھوں بیرل تیل ٹینکروں اور ذخیرہ گاہوں میں پھنس چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں وینزویلا کے تیل کے پیداواری یا ریفائننگ نظام کو کوئی براہ راست نقصان نہیں پہنچا، تاہم پابندیوں کے سبب دسمبر میں وینزویلا کی تیل برآمدات کم ہو کر تقریباً پانچ لاکھ بیرل یومیہ رہ گئیں، جو نومبر کے مقابلے میں نصف تھیں۔ جنوری کے بعد صرف امریکی کمپنی شیوران کو محدود مقدار میں تقریباً ایک لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ادھر اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک (اوپیک پلس) نے پہلی سہ ماہی کے دوران تیل کی پیداوار موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی غیریقینی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا اور ایران سے وابستہ جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، تاہم دیگر ممالک کی اضافی پیداوار اس اثر کو کسی حد تک زائل کر سکتی ہے۔ کیپیٹل اکنامکس کے مطابق وینزویلا میں قلیل مدتی سپلائی رکاوٹ کو دیگر خطوں کی پیداوار آسانی سے پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔