عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان اس وقت دیکھا گیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے امید افزا بیانات دیے ہیں۔
ان بیانات کے بعد سرمایہ کاروں میں اعتماد بحال ہوا اور تیل کی قیمتوں میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، برینٹ خام تیل کی قیمت میں پانچ فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے اور یہ تقریباً ایک سو پانچ ڈالر فی بیرل تک آگئی ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں بھی کمی دیکھی گئی ہے، جو 103.48 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔ دن کے آغاز میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 88 سینٹ کی کمی ہوئی تھی، جس کے بعد یہ 110.40 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی تھی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات "آخری مراحل" میں داخل ہو چکے ہیں اور انہیں امید ہے کہ جلد ہی کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اس بیان کے بعد سے سرمایہ کاروں میں وقتی اعتماد پیدا ہوا، جس کا اثر تیل کی قیمتوں پر دکھائی دیا ہے۔تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی بھی آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں، اور ایران سے متعلق غیر یقینی صورتحال عالمی توانائی منڈی کے لیے بڑے خطرات برقرار رکھتی ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، چند بحری جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محدود نقل و حرکت نے بھی مارکیٹ کو وقتی ریلیف فراہم کیا ہے۔دوسری جانب، عالمی مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ناکام ہوئے یا خطے میں دوبارہ فوجی کشیدگی بڑھی، تو تیل کی قیمتیں دوبارہ ایک سو بیس سے دو سو ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سال، امریکی اور اسرائیلی حکام کی طرف سے ایران پر عائد کی گئی اقتصادی پابندیوں اور خطے میں جاری کشیدگی کے سبب عالمی تیل مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ چند روز قبل، برینٹ خام تیل کی قیمت 126 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔